شام سے فوج کے انخلاء کا فیصلہ اچانک نہیں طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے امریکی افواج کی واپسی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے ایران، روس اور شام کی 'داعش'کے خلاف مقامی لڑائی کا حصہ بننے کی توقع نہ کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام سے امریکی فوج کے انخلاء کا فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ یہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کاحصہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شام سے امریکی افواج کی واپسی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جو کہ 100 دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کی ’تاریخی کامیابیوں کے بعد وقت آ گیا ہے کہ انھیں گھر واپس لے آیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ چھ ماہ قبل جب میں نے شام میں امریکی فوج کے مزید قیام کا فیصلہ کیا تھا تو اس وقت بھی میری یہ خواہش تھی کہ اب شام میں امریکی فوج کا کوئی کردار نہیں۔ شام میں اسد رجیم، روس اور ایران مقامی سطح پر'داعش' کے دشمن ہیں۔ ہمیں اس لڑائی سے نکل جانا چاہیے۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے اعلان کے ایک روز بعد ترکی کے وزیر دفاع نے شمالی شام میں کرد عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آنے پر شامی کرد ملیشیا کے ارکان کو ان کی خندقوں میں دفن کر دیا جائے گا۔

دریں اثناء شام میں لڑنے والے کردوں کے ایک اتحاد نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شدت 'داعش' کو شکست دینے کے اعلان اور شام سے امریکی افواج کی واپسی کے فیصلے سے شدت پسند تنظیم کو خطے میں ایک بار پھر اپنے قدم جمانے کا موقع ملے گا۔

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق امریکہ کے جانے سے علاقے میں ایک خلا پیدا ہو جائے گی، اور امریکا کے اتحادی اپنے ’دشمنوں کے درمیان پھنس جائے گا‘۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکی افواج شام سے نکل جاتی ہیں تو اس کے خطے میں قیامِ امن کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ایک سیاسی اور عسکری خلا پیدا ہو جائے گا۔

اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر امریکی سینیٹر اور اتحادی ممالک بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ کے شام سے امریکی فوج واپس بلانے کے فیصلے پر امریکی سینیٹرز کے علاوہ اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

امریکی صدر کی جماعت ریپبلکن پارٹی کے اہم سینیٹرز نے اس فیصلے پر کھل کر تنقید کی ہے اور اسے ایک بری اور بڑی غلطی اور ایران اور روس کی فتح قرار دیا ہے۔

برطانیہ نے بھی صدر ٹرمپ کے ان اندازوں پر سوال اٹھائے ہیں جن کے مطابق ان کے خیال میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو شکست ہو چکی ہے۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے بعد امریکی فوجیوں کی واپسی شروع کر دی گئی ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا شام میں تعینات تمام دو ہزار امریکی فوجی نکالے جا رہے ہیں اور امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ ’مہم اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔‘ تاہم پینٹاگون نے بھی اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں۔

شام میں تعینات دو ہزار امریکی فوجیوں نے بہت حد تک ملک کے شمال مشرقی حصے کو 'داعش' کے قبضے سے آزاد کروایا ہے تاہم اب بھی وہاں شدت پسندوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں