وڈیو : مراکش میں دو خواتین سیاحوں کے قاتلوں کی داعش تنظیم کی بیعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دہشت گرد تنظیم داعش کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو جاری کی گئی ہے۔ وڈیو میں مراکش میں دو خواتین سیاحوں کے قاتلوں میں شامل ایک شخص دھمکی دے رہا ہے کہ ملک میں اسی نوعیت کی مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔

جمعرات کی شب منظرعام پر آنے والی وڈیو میں خواتین سیاحوں کے بہیمانہ قتل کے جرم میں ملوث چاروں افراد دکھائی دے رہے ہیں جو داعش کے سربراہ ابو بكر البغدادی کو اپنا امیر قرار دے کر اس کی بیعت کا اعلان کر رہے ہیں۔

وڈیو میں ان چاروں میں سے ایک شخص نے چُھرا دکھاتے ہوئے مراکش کو دھمکی دی اور کہا کہ "ہم نے تم لوگوں کے لیے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا"۔

یاد رہے کہ مراکش کی پولیس نے جمعرات کی صبح تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا جن کا مراکش شہر کے مضافات میں اطلس کے سیاحتی پہاڑی علاقے میں دو خواتین سیاحوں کے قتل سے تعلق بتایا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک دوسرے شخص کی گرفتاری کے دو روز بعد سامنے آئی جس کے بارے میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک شدت پسند مسلح جماعت کا رکن ہے۔

مذکورہ چاروں مشتبہ افراد نے تیز دھار آلے کا استعمال کرتے ہوئے دونوں خواتین سیاحوں کا موت کے گھاٹ اتار دیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈنمارک سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ لوئزا جیسبرسن اور ناروے سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ اولاند مارین نے اتوار کی صبح مراکش شہر کے مضافاتی علاقے الحوز میں واقع پہاڑی سلسلے اطلس کی ایک چوٹی پر "شمهروش" کے مقام پر ایک الگ تھلگ جگہ اپنا کیمپ نصب کر لیا تھا تا کہ وہاں رات گزار سکیں۔ پیر کی صبح دونوں خواتین سیاح اپنے کیمپ میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں