.

امریکی انخلاء کے بعد نیٹو اتحاد افغانستان میں اپنا مشن جاری رکھے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی اوقیانوسی اتحاد نیٹو نے جمعے کے روز باور کرایا ہے کہ وہ افغانستان میں تعینات امریکی فوج کی "اہم" تعداد کے انخلاء کی صورت میں بھی اپنا مشن جاری رکھے گا۔

نیٹو کی ترجمان نے امریکی فیصلے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم انہوں نے یہ بتایا کہ نیٹو نے رکن ممالک کے وزراء خارجہ کے آخری اجلاس میں بار ہا یہ موقف دُہرایا کہ وہ "افغانستان میں طویل المیعاد امن و استحکام" کو یقینی بنانے پر کاربند رہے گا۔ نیٹو ترجمان وانا لونگیسکو کا کہنا تھا کہ "ہماری جانب سے پاسداری اہمیت کی حامل ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغانستان اُن بین الاقوامی دہشت گردوں کے مرکز میں تبدیل نہ ہو جو ہمیں ہمارے ممالک میں دھمکیاں دیتے ہیں"۔

امریکی فورسز نیٹو مشن کا ایک حصہ ہے جس کے دوران طالبان کے خلاف معرکہ آرائی میں افغان فوجیوں کو تربیت اور مشاورت فراہم کی گئی۔

امریکی اخبارات "وال اسٹریٹ جرنل" اور "نیویارک ٹائمز" کے مطابق انخلاء کے فیصلے کے تحت افغانستان میں تعینات 14 ہزار امریکی فوجیوں میں سے 7 ہزار کو واپس بلایا جائے گا۔

نیٹو ترجمان نے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کو بھی سراہا جو شام اور افغانستان میں وہائٹ ہاؤس کی نئی حکمت عملی پر عدم موافقت کے سبب جمعرات کے روز اپنا استعفا پیش کر چکے ہیں۔ ترجمان کے مطابق میٹس نے نیٹو اتحاد کو مضبوط رکھنے اور اتحاد کو درپیش سکیورٹی چیلنجوں کے لیے تیار رہنے کے حوالے سے مرکزی کردار ادا کیا۔

نیٹو ترجمان نے بتایا کہ جمیز میٹس بطور فوجی اور سفارت کار بڑی حد تک محترم شخصیت ہیں۔