.

صومالی دارالحکومت میں صدارتی محل کے نزدیک خودکش کار بم دھماکا ، 16 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے دارالحکومت مقدیشو میں صدارتی محل کے نزدیک خودکش کار بم دھماکے میں 16 افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ ہلاک ہوگئے ہیں۔سخت گیر جنگجو الشباب نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔

مقدیشو میں پولیس کے کپتان محمد حسین نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی کو صدارتی محل کے نزدیک ایک فوجی چیک پوائنٹ پر دھماکے سے اڑایا ہے۔مرنے والوں میں صومالیہ کے معروف صحافی اویل ظاہر سلاد سمیت لندن سے نشریات پیش کرنے والے یونیورسل ٹی وی اسٹیشن کے عملہ کے تین ارکان بھی شامل ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ زخمیوں میں پارلیمان کے ایک رکن اور مقدیشو کے ڈپٹی میئر بھی شامل ہیں۔چیک پوائنٹ پر تعینات بعض فوجی بھی بم حملے میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

اس بم دھماکے کے بعد اسی علاقے میں ایک اور چھوٹا دھماکا بھی ہوا تھا اور ان دونوں حملوں میں بظاہر کام پر جانے والے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔صومالیہ میں ہفتہ کام کے حوالے سے مصروف ترین دن ہوتا ہے۔

صومالیہ میں حکومت کے خلاف برسرجنگ الشباب گروپ نے ایک بیان میں اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ الشباب کو گذشتہ برسوں کے دوران میں دارالحکومت مقدیشو سے صومالی سکیورٹی فورسز نے افریقی فورسز کی مدد سے نکال باہر کیا تھا۔ تاہم اس وقت بھی ملک کے دیہی جنوبی اور وسطی علاقوں میں اس مسلح گروپ کا کنٹرول برقرار ہے۔

صومالیہ میں افریقی یونین کے امن مشن کے تحت 20 ہزار فوجی تعینات ہیں اور امریکا کے لڑاکا طیارے بھی الشباب کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے رہتے ہیں ۔اس سال امریکا نے صومالیہ میں الشباب کے ٹھکانوں پر کم سے کم 47 فضائی حملے کیے ہیں۔