.

احتجاج فطری راستے سے ہٹ چکا ہے: معاون صدر

سوڈان:عوام کو حکومت کے خلاف احتجاج پر اکسانے والارکن پارلیمنٹ گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج کےبعد حکومت نے پارلیمنٹ کے ایک سرکردہ رکن کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس پر عوام کو حکومت کے خلاف سڑکوں پر لانے اور اکسانے میں ملوث سیل کی سرپرستی کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

پولیس نے سادہ کپڑوں میں ملبوس فوجی اہلکاروں کو بھی حراست میں لیا ہے جو حکومت کے خلاف احتجاج میں پیش پیش رہےہیں۔

دوسری جانب صدر عمر البشیر کے ایک معاون خصوصی نے کہا ہے کہ احتجاج اور مظاہرے اپنے فطری راستے سے ہٹ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوڈانی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی کو احتجاج کی آڑ میں تخریب کاری کی اجازت نہیں دیں گے۔

صدر کے معاون نے کہاکہ جن ریاستوں‌میں احتجاج کیا گیا ان میں گرفتاریاں کی گئی ہیں اور احتجاج منظم کرنے والے کئی افراد دوسرے علاقوں سے وہاں آئے ہیں۔

خیال رہے کہ مہنگائی کے خلاف سوڈان میں جمعہ اور ہفتہ کے روز ملک گیر احتجاج ہوا ہے۔ سوڈان میں احتجاج کی لہر بدھ کے روز حکومت کی جانب سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہوئی تھی۔ احتجاج کے دوران پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا گیا۔ دوسری جانب مظاہرین پرتشدد مظاہروں‌کے دوان بڑے پیمانے پر توڑپھوڑ اور لوٹ مار کرنے کا بھی الزام عاید کیاجاتا ہے۔

حکومت نے کئی ریاستوں میں احتجاج کے پیش نظر ہنگامی حالت اور رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے۔ خرطوم اوردوسرے علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔