.

تیل مارکیٹ 2019ء کے اوائل میں دوبارہ متوازن ہونے کا امکان ہے: اوپیک وزراء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم (اوپیک) میں شامل متحدہ عرب امارات اور عراق کے وزرائے تیل کا کہنا ہے کہ آیندہ سال کے اوائل میں تیل مارکیٹ دوبارہ متوازن ہوجائے گی اور تیل کی پیداوار میں کٹوتی سے متعلق سمجھوتے پر عمل درآمد کے بعد مارکیٹ میں آنے والا اتار چڑھاؤ ختم ہوجائے گا۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اکتوبر کے اوائل سے 36 فی صد کمی واقع ہوچکی ہے اور عالمی سطح میں طلب میں کمی اور رسد میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر اب فی بیرل قیمت 54 ڈالرز ( 47 یورو) تک گر چکی ہے۔

اوپیک کے صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی سہیل المزرعوئی نے کہا ہے کہ تیل مارکیٹ میں فالتو ذخائر کی 2017ء کے مقابلے میں مقدار کم ہے اور توقع ہے کہ یہ آیندہ دو ایک ماہ میں ختم ہوجائیں گے۔

انھوں نے کویت شہر میں اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’ دستیاب اعداد وشمار کے مطابق ہمارے پاس دو کروڑ 60 لاکھ بیرل فالتو تیل ہے۔اس کے مقابلے میں 2017ء کے اوائل میں 34 کروڑ بیرل اضافی تیل تھا۔میرے خیال میں ہم آیندہ سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران میں ایک یا دو ماہ میں مارکیٹ کو دوبارہ متوازن بنا سکتے ہیں‘‘۔

اوپیک اور غیر اوپیک ممالک نے دسمبر کے اوائل میں تیل کی مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام کے لیے یکم جنوری سے پیداوار میں 12 لاکھ بیرل یومیہ کمی کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

مزرعوئی کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں حالیہ مہینوں کے دوران میں پہلے سے کی گئی پیشین گوئی سے زیادہ تیل کی مارکیٹ میں سپلائی ہوئی ہے کیونکہ امریکا کی ایران کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کے اس ملک کی تیل کی برآمدات پر توقع سے کم اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔

عراق کے وزیر تیل ثامر الغضبان کا کہنا ہے کہ اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کے درمیان تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے لیے نئے سمجھوتے پر عمل درآمد کے حوالے سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے تاکہ مارکیٹ کو مستحکم کیا جاسکے۔

انھوں نے بتایا کہ اس نئے سمجھوتے کی میعاد چھے ماہ کے لیے ہے اور اس کے بعد اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کے وزراء کا اپریل میں اجلاس ہوگا اور اس میں پیداوار میں کٹوتی کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ان کے خیال میں اس نئے اقدام سے مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے رجحان کو روکا جاسکے گا۔

تاہم اماراتی وزیرتیل کا کہنا تھا کہ اگر مارکیٹ میں توازن نہیں آتا تو تیل پیدا کرنے والے ممالک اس سمجھوتے پر نظرثانی یا پیداوار میں مزید کمی کے لیے تیار ہیں۔