.

فرانس میں 1789ء کے انقلاب کے پیچھے کس وزیر کا ہاتھ تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی تاریخ میں 1788ء وہ سال ہے جب ملک کی اقتصادی صورت حال تباہی سے دوچار ہو گئی اور ملک میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کے بادل منڈلانے لگے۔ اس سال کے دوران عام قرضوں کا حجم ریکارڈ سطح پر پہنچ کر چار ارب پاؤنڈز کے لگ بھگ ہو گیا۔ اس موقع پر ریاست کی سالانہ آمدن کا اندازہ پچاس کروڑ پاؤنڈ لگایا گیا جب کہ مجموعی اخراجات ساٹھ کروڑ پاؤنڈ سے تجاوز کر گئے۔

سونے پہ سہاگا یہ کہ امریکا کی خود مختاری کی جنگ میں شرکت پر فرانس کے ایک ارب ڈالر کے قریب خرچ ہو گئے۔ اس امر نے ملک کے عام قرضوں کے حجم میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔

مذکورہ ابتر صورت حال کو دیکھ کر فرانس کے بادشاہ نے 1788ء میں اقتصادیات کے ماہر اور سابق وزیر(Jacques Necker) کا سہارا لیا جو سوئس نژاد تھا۔ ملک کو اقتصادی تباہی سے بچانے میں ناکام ہونے والے وزیر(Charles Alexandre de Calonne) کی جگہ ایک بار پھر جاک نیکر کو بلا کر اسے وزیر کے درجے پر مالیات کے امور کا نگران عام مقرر کیا گیا۔

جاک نیکر نے 25 اگست 1788ء کو اپنا منصب سنبھالا۔ اس نے قوم کے مختلف طبقات پر مشتمل طبقات پر مشتمل Estates Journal کونسل کا ایک فوری اجلاس منعقد کر کے اقتصادی تبدیلیوں کے ایک مجموعے اور ایک مالیاتی قانون کی منظوری دلوائی تا کہ دیوالیہ پن کے کنارے پر پہنچ جانے والے ملک کو بچایا جا سکے۔

سال 1788 – 1789 کے موسم سرما میں فرانس کے تمام علاقوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے چلا گیا۔ اس دوران برف باری کی چادر سے ڈھک جانے کے سبب زراعت تباہی سے دوچار ہو گئی۔ ان تمام عوامل نے ملک میں خشک سالی اور قحط کو جنم دے ڈالا۔ وزیر جاک نیکر نے قحط سالی کی شدت میں کمی لانے کے واسطے فرانس سے گندم کی برآمد روک دی اور اس دوران فرانس نے مختلف غذائی اشیاء درآمد کیں۔

پانچ مئی 1789ء کو ہونے والے اجلاس کے دوران وزیر نیکر نے چار گھنٹے طویل خطاب میں ملک کو درپیش سنگین اقتصادی صورت حال کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور کئی اقتصادی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔

اس کے بعد تیئس مئی 1789ء کو وزیر جاک نیکر نے Estates Journal کونسل کے اجلاس میں آنے سے انکار کر دیا کیوں کہ فرانس کے بادشاہ لوئس شانزدہم نے عوامی طبقے کے لیے پیش کی جانے والی رعایت کا تناسب محدود کر دیا تھا جب کہ گزشتہ ایام کے دوران اس طبقے نے قومی کونسل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں بادشاہ اور وزیر کے درمیان غیر معمولی اختلاف نے جنم لیا۔

گیارہ جولائی 1789ء کو فرانس کے بادشاہ لوئس شانزدہم نے اسٹیٹس جرنل کونسل کو بڑے پیمانے پر رعائتیں پیش کرنے کے الزام میں وزیر جاک نیکر کو برطرف کر دیا۔ اس پر نیکر نے فرانسیسی اراضی سے کوچ کر کے برسلز کے راستے سوئٹزرلینڈ جانے کا فیصلہ کر لیا۔

ادھر جاک نیکر کی برطرفی کے فیصلے نے عوامی غیض و غضب کو بھڑکا دیا جس نے دارالحکومت پیرس کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ نیکر کی برطرفی کے صرف تین روز بعد ہی فرانس کے لوگوں نے پیرس میں(Les Invalides) کمپاؤنڈ پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے ہر جگہ سے بندوقیں حاصل کر کے(the Bastille) جیل کا رخ کیا۔ اس طرح چودہ جولائی 1789ء کو مذکورہ جیل پر پیرس کے لوگوں نے قبضہ کر لیا۔ یہ واقعہ انقلابِ فرانس کو بھڑکانے والی چنگاری شمار کیا جاتا ہے۔

واقعے کے دو روز بعد سولہ جولائی 1789ء کو فرانس کے بادشاہ لوئس شانزدہم نے پیرس کے لوگوں سے مذاکرات کے بعد ایک بار پھر اپنے سابق وزیر جاک نیکر کو بُلا کر اُس کے منصب پر بحال کر دیا۔