.

یمن: مارب میں حوثیوں کے خود کش حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا ہے کہ "حوثی ملیشیا صراوح اور مارب سمیت مختلف محاذوں پر اپنی ہزیمت پر پردہ ڈالنے کے لیے بہادی اور دلیری کی فرضی کہانیاں گھڑ رہی ہے۔ درحقیقت ان مقامات پر حوثی ملیشیا نے یمنی فوج کے ٹھکانوں میں دراندازی کی کوشش کی اور اس واسطے اپنے سیکڑوں ارکان کو خودکش حملوں میں جھونک دیا تاہم اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا"۔

ہفتے کی شب اپنی ایک ٹوئیٹ میں یمنی وزیر نے کہا کہ مارب تاریخ، تمدن، دلیری اور قربانی کا وہ مرکز ہے جو سب سے پہلے ایران نواز حوثی بغاوت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو گیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے جگر گوشوں کو قربان کر دیا۔ مآرب یمن اور خطے میں حوثی اور ایرانی منصوبے کے لیے کاری ضرب رہے گا۔

عسکری ذرائع نے بتایا تھا کہ باغی حوثی ملیشیا نے دو روز قبل مارب کے مغرب میں صراوح کے محاذ پر بعض ٹھکانوں میں دراندازی کی کوشش کی تاہم کئی روز سے اکٹھا کیے جانے والے باغیوں کے مجمع کے باوجود ملیشیا کسی بھی پیش قدمی میں ناکام رہی۔

ذرائع نے باور کرایا کہ یمنی فوج نے حوثی ملیشیا پر کڑی نظر رکھی ہوئی تھی اور مناسب وقت پر گھات لگا کر اس نے باغیوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک اور زخمی کر دیا جب کہ بقیہ حوثی بھاگ نکلے۔ اس دوران یمنی فوج کو عرب اتحاد کے طیاروں کے حملوں کے ذریعے معاونت حاصل رہی۔

ذریعے کے مطابق حالیہ عرصے میں صعدہ ، صنعاء اور مغربی ساحل کے محاذوں پر حوثی ملیشیا کی شکستوں اور سیاسی ہزیمتوں نے باغیوں کو صراوح میں خود کش حملے کرنے پر مجبور کر دیا۔