افغانستان: طالبان مخالف شخصیات وزیرداخلہ اور وزیر دفاع مقرر

افغان صدر نے وزیرداخلہ اور ودفاع تبدیل کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کابینہ میں اچانک رد وبدل کرتے ہوئے تحریک طالبان کے سخت خلاف سمجھے جانے والے دو رہ نمائوں کو وزارت داخلہ اور دفاع کا قلم دان سونپے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد نصف تک کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے جاری کردہ ایک صدارتی فرمان میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ادارے کے دو سابق عہدیداروں امراللہ صالح کو وزیر داخلہ اور اسداللہ خالد کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے۔ کابینہ میں اس اچانک تبدیلی کی وجہ ظاہر نہیں‌کی گئی۔

خیال رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے چار ماہ پیشتر ملک میں امن و امان کی صورت حال خراب ہونے کےبعد وزیر داخلہ ویس احمد برمک اور وزیر دفاع طارق شاہ بہرامی کا استعفیٰ مسترد کردیا تھا۔ دونوں وزراء‌نے ملک میں امن وامان کی صورت حال بگڑنے پر تنقید کے بعد استعفیٰ دینے کا اعلان کیاتھا۔

افغانستان میں وزراء ودفاع اور داخلہ کی تبدیلی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیاہے جب دوسری جانب امریکی صدر نے افغانستان میں تعینات امریکی فوج کی تعداد نصف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ افغانستان میں امریکی فون کی تعداد 14 ہزار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں