داعش کے خلاف اتحاد کے لیے کُردوں کا مقرب امریکی ایلچی مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

داعش تنظیم کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی فورسز کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی بریٹ میک گورک نے احتجاجی اقدام کے طور پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو اپنا استعفا پیش کر دیا ہے۔

وہ صدر بش کے دور سے کام کر رہے ہیں اور اس عہدے پر انہیں صدر اوباما نے مقرر کیا تھا۔

میک گورک نے شام سے امریکی فورسز کے انخلا سے متعلق صدر ٹرمپ کے فیصلے کو غیر ذمے دارانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "میرے لیے اس فیصلے کا دفاع کرنا یہاں تک کہ امریکا کے اتحادیوں کے سامنے اس کو واضح کرنا دشوار امر ہے"۔

واضح رہے کہ میک گورک کا استعفا امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کی جانب سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ میٹس اور صدر ٹرمپ کے درمیان متعدد مرکزی نوعیت کے معاملات پر اختلاف پایا جاتا ہے جن میں آخری معاملہ شام سے انخلا کا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ بریٹ میک گورک نے ایک ہفتہ قبل صحافیوں کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ امریکی افواج شام میں رہیں گی کیوں کہ داعش تنظیم پر پوری طرح قابو نہیں پایا گیا ہے۔

میڈیا میں بریٹ میک گورک کے استعفے کو امریکی وزیر دفاع جمیز میٹس کے مستعفی ہونے کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے کئی سینئر عہدے دار اس بات سے نالاں ہیں کہ امریکی صدر عسکری قیادت اور سفارت کاری کے شعبے میں تجربے کی حامل شخصیات سے مشاورت کے بغیر خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلے کر رہے ہیں۔

ادھر میڈیا میں میک گورک کے استعفے کو میٹس کے سبک دوش ہونے سے مربوط کرنے پر ٹرمپ چراغ پا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں بین الاقوامی اتحاد کے لیے امریکی ایلچی کے رخصت ہونے کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے لکھا کہ وہ تو میک گورک کو جانتے بھی نہیں اور انہیں سابق صدر اوباما نے مقرر کیا تھا۔

یہ بات سب جانتے ہیں کہ بریٹ میک گورک کُردوں سے بہت قریب تھے۔ میک گورک کے مطابق داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں کُردوں کی شرکت نے دہشت گرد تنظیم کو اُس کے زیر قبضہ اراضی سے محروم کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

میک گورک نے اربیل اور سلیمانیہ کے کئی دورے کیے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ شام کے کُردوں کے علاوہ عراق کے کُردوں کے ساتھ بھی ان کے خصوصی تعلقات تھے۔ کُردوں کے ساتھ اس قربت نے میک گورک کو ترکی کی نظر میں مشکوک بنا دیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایک سے زیادہ مرتبہ ایسا ہوا کہ ترک عہدے داران نے اُن سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔

میک گورک نے مخاصم اور عداوت کے حامل فریقوں کے درمیان توازن برقرار رکھا البتہ داعش تنظیم کے خلاف 72 ممالک کا بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے میں ان کو مشکل پیش آئی تھی۔

بعض حلقوں کے نزدیک بریٹ میک گورک کا منظر عام سے جانا زیادہ اثر انداز نہیں ہو گا اس لیے کہ صدر ٹرمپ بڑے فیصلے کسی سے مشورے کے بغیر ہی کرتے ہیں۔

میک گورک کے رہنے یا چلے جانے سے قطع نظر بہت سے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اس پیش رفت کا سب سے زیادہ نقصان کُردوں کو ہو گا جنہوں نے داعش کے خلاف لڑائی میں سب سے زیادہ قیمت چکائی ہے۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق شام میں ہلاک ہونے والے کردوں کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے جب کہ اس دوران صرف 4 امریکی فوجی مارے گئے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں