شام میں امریکی فورسز کے انخلا کے حکم پر دستخط ہو چکے ہیں : پینٹاگون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کے ایک فوجی ترجمان نے پیر کے روز بتایا ہے کہ شام میں امریکی فورسز کے انخلا سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط ہو چکے ہیں۔ تاہم ترجمان نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اس سے قبل وہائٹ ہاؤس نے شام میں امریکی فورسز کے انخلا کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ "شام میں داعش تنظیم کے خلاف فتح یابی کا مطلب عالمی اتحاد یا اس کی مہم کا خاتمہ نہیں ہے"۔

امریکی عہدے دار کے مطابق شام سے امریکی فورسز کا انخلا 60 سے 100 روز کے اندر ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ شام سے تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لینے کا عمل "داعش تنظیم کے خلاف آخری کارروائی" کے ساتھ عمل میں آئے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنی ٹوئیٹ میں باور کرایا کہ شام سے امریکی فورسز کے انخلا کا فیصلہ اچانک نہیں ہوا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "شام سے انخلا کوئی اچانک فیصلہ نہیں۔ میں کئی برسوں سے اس کا مطالبہ کر رہا ہوں۔ روس، ایران، شام اور دیگر عناصر مقامی طور پر داعش تنظیم کے دشمن ہیں۔ ہم وہاں کام کر رہے تھے اور اب وطن واپسی اور تعمیر نو کا وقت آ گیا ہے"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ انہوں نے شام سے امریکی فوج کے انخلا کے معاملے پر ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام سے فوج ایک ساتھ اور یک دم نہیں بلکہ رفتہ رفتہ واپس بلائی جائے گی اور اس حوالے سے ترکی سے مکمل ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔

خیال رہے کہ امریکی صدر کے شام سے فوجی انخلا کے فیصلے پر کانگریس میں ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلیکنز کی طرف سے بھی سخت تنقید کی گئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 'ٹوئٹر' پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں ‌کہا کہ ترک صدر کے ساتھ بات چیت میں 'داعش' کے خلاف جاری مشترکہ آپریشن، شام سے رفتہ رفتہ فوج کی واپسی اور خطے میں امریکی فوج کے ساتھ ہم آہنگی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں