کُردوں کے دو وفود روسی عہدے داران سے بات چیت کے لیے ماسکو میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ماسکو میں سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سیرین ڈٰیموکریٹک کونسل کا ایک وفد روسی دارالحکومت پہنچا ہے جہاں وہ پیر کے روز روسی عہدے داران سے ملاقات کرے گا۔

ذائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ٹیلیفون پر بتایا کہ "کُردوں کے دو وفد ماسکو پہنچے ہیں۔ ان میں ایک وفد پیر کی دوپہر روسی وزارت خارجہ کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔

کُردوں کی خود مختار انتظامیہ میں سفارت تعلقات کی کمیٹی کے سرکاری ترجمان کمال عاکف نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ماسکو میں سیرین ڈیموکریٹک کونسل کے ایک وفد کی موجودگی کی تصدیق کی۔ انہوں نے مزید بتای کہ دونوں فریق ابھی تک کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچے ہیں۔

سیرین ڈیموکریٹک کونسل کی مشترکہ پریذیڈنسی کے اعلی سطح کے ذرائع کے مطابق چند روز قبل ماسکو پہنچنے والے وفد کی قیادت ڈاکٹر عبدالکریم عمر کر رہے ہیں۔ وہ اس وقت شام کے شمال اور شمال مشرق میں "خود مختار انتظامیہ" میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ کے منصب پر فائز ہیں۔

گزشتہ ہفتے وہائٹ ہاؤس کی جانب سے شام سے امریکی فورسز کے انخلا کے اعلان کے بعد ماسکو دوسرا مقام ہے جہاں سیرین ڈیموکریٹک کونسل کے نمائندگان ملاقات کے لیے پہنچے ہیں۔ اس سے قبل کونسل کے وفد نے پیرس کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت کونسل کا ایک دوسرا وفد شام میں روس کے فوجی اڈے "حميميم" کا دورہ کر رہا ہے۔

دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے اتوار کے روز بتایا کہ ماسکو میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز اور روسی حکام کے درمیان ملاقات کا مقصد دریائے فرات کے مشرق میں واقع علاقے کے مستقبل کو زیر بحث لانا ہے جب کہ انقرہ کی جانب سے اس علاقے میں زمینی حملوں کی مسلسل دھمکیاں سامنے آ رہی ہیں۔

المرصد کے مطابق روسی جانب سے بشار الاسد حکومت کے زیر انتظام سرحدی فورسز کو ترکی کے ساتھ سرحد پر تعینات کیا گیا۔

سیرین ڈیموکریٹک کونسل کے وفود ان دوروں کے ذریعے کوشش کر رہے ہیں کہ ایک پر امن حل تک پہنچا جائے۔ ایسا حل جو دریائے فرات کے مشرق میں ایس ڈی ایف کے زیر کنٹرول علاقوں میں ترک فوج کی عدم جارحیت کو یقینی بنائے۔ ایس ڈی ایف کے حلقوں کی جانب سے اس امر پر ناگواری ظاہر کی گئی ہے کہ بشار حکومت انقرہ کی دھمکیوں پر خاموش ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں