.

حوثی باغی الحدیدہ میں موجود رہنے کے لیے فوجی وردی کا کیسے غلط استعمال کررہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ میں جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے سربراہ ریٹائرڈ جنرل پیٹرک کمائرٹ نے اپنے کام کا آغاز کردیا ہے لیکن حوثی باغی الحدیدہ میں موجود رہنے کے لیے انھیں دھوکا دینے کی کوشش کررہے ہیں اور پہلے ہی روز ان کے ساتھ حوثی ملیشیا کے ایک لیڈر یمنی فوج کی وردی میں ملبوس نظر آئے ہیں۔

حوثی ملیشیا کے اس لیڈر کا نام ابو علی الکہلانی بتایا گیا ہے اور وہ تصویر میں یمنی فوج کے کرنل کے عہدے کے افسر کی وردی میں ملبوس نظر آرہے ہیں۔ان کا نام عرب اتحاد کومطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے ۔وہ حوثی ملیشیا کے لیڈر عبدالملک الحوثی کے ذاتی حفاظتی عملہ میں بھی شامل رہے ہیں۔

الکہلانی کی مثال سے صاف ظاہر ہے کہ حوثی جنگجو اقوام متحدہ کے مشن کے سامنے خود کو مقامی اتھارٹی کے طور پر پیش کررہے ہیں جو الحدیدہ میں سکیورٹی کی ذمے دار ہے۔

العربیہ کے ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا نے الحدیدہ میں موجود رہنے کے لیے قبل از وقت اقدامات شروع کردیے ہیں اور اس نے اپنے عناصر سے کہا ہے کہ وہ سنٹرل سکیورٹی اور پولیس کی وردیاں پہن لیں اور اپنی گاڑیوں اور کاروں کو فوجی رنگ میں رنگ دیں۔حوثی ملیشیا فوجی وردی میں ملبوس اپنے جنگجوؤں کو پولیس تھانوں اور الحدیدہ کی بندرگاہ پر بھی تعینات کررہی ہے۔

انھوں نے مبیّنہ طور پر شمالی شہر صعدہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو جعلی شناختی کارڈ جاری کر دیے ہیں جن میں انھیں الحدیدہ کا شہری ظاہر کیا گیا ہے۔