.

خامنہ ای کے ممکنہ جانشین شاہرودی کی وفات کے بعد اُن کی جگہ کون لے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ آیت اللہ محمود ہاشمی شاہرودی کی وفات کے حوالے سے متضاد خبروں کے بعد ایرانی حکام نے پیر کی شب دارالحکومت تہران کے ایک ہسپتال میں ان کی موت کا اعلان کر دیا۔

ایران میں انسانی حقوق کی تنظیمیں 70 برس کی عمر میں وفات پانے والے شاہرودی پر الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ انہوں نے عدلیہ کی سربراہی کے دوران (1999-2009) دس برس میں موت کے گھاٹ اتارے جانے کی 2000 کارروائیوں کی نگرانی کی۔ اُس وقت وہ رہبر اعلی علی خامنہ ای کے قریبی حلیف تھے اور تجزیہ کار انھیں خامنہ کا ممکنہ جانشین شمار کرتے تھے۔

شاہرودی رواں سال جنوری میں علاج کے لیے جرمنی گئے تھے تاہم ایرانی اور جرمن کارکنان کی جانب سے "قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم" کے الزام کے تحت مقدمہ دائر کیے جانے پر وہ دورہ ختم کر کے ایران لوٹ آئے۔ ہینوفر میں سیکڑوں ایرانیوں نے neurological treatment center کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین شاہرودی کے علاج کی منظوری پر مذکورہ طبی مرکز کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران فارسی اور جرمن زبانوں میں شاہرودی اور ایرانی نظام کے خلاف زوردار نعرے لگائے گئے۔

جرمنی میں سابق رکن پارلیمنٹ والکر پیک نے ایرانی مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ محمود ہاشمی شاہرودی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں حراست میں لے کر اُن کے خلاف "قتل اور انسانیت مخالف جرائم" کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شاہرودی نے سیاسی کارکنان کی جبری گرفتاریوں میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ان کی کڑی نگرانی میں درجنوں اخبارات پر پابندی عائد کی گئی اور متعدد صحافیوں اور بلاگروں کو طویل المیعاد سزائیں سنائی گئیں۔

شاہرودی 1948 میں نجف میں پیدا ہوئے۔ وہ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران منتقل ہو گئے۔ انہیں ایران اور عراق میں شیعوں کی ایک اہم مذہبی شخصیت شمار کیا جاتا تھا۔ تاہم ایران میں بعض حلقوں نے شاہرودی کی عراقی شہریت کے سبب مرشد اعلی کی جانشینی کے طور پر اُن کی نامزدگی کو مسترد کر دیا تھا۔

شاہرودی کی وفات کے ساتھ ہی ان کی جگہ منصب پر فائز کرنے کے لیے ایران کی متعدد سیاسی اور مذہبی شخصیات کے نام پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سرفہرست سابق صدارتی امیدوار ابراہیم رئیسی ہیں۔ ان کے علاوہ ایرانی عدلیہ کے سابق سربراہ صادق لاریجانی کا بھی نام لیا جا رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق لاریجانی جلد ہی اپنا منصب چھوڑ دیں گے اور ان کی جگہ ابراہیم رئیسی لیں گے۔