.

سعودی عرب نے یمن کو داعش اور حوثیوں کے درمیان تقسیم ہونے سے بچایا: آل جابر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کی جانب سے مدد کی درخواست قبول کرکے پڑوسی ملک یمن کو 'داعش' حوثیوں اور القاعدہ کے درمیان تقسیم ہونے اور ملک کو 'ناکام' ریاست بننے سے بچا لیا۔ اگر سعودی عرب مداخلت نہ کرتا تو یمن اس وقت ایرانی ایجنٹوں اور القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروپوں کے درمیان تقسیم ہو چکا ہوتا۔

امریکی اخبار'دا وال اسٹریٹ جرنل' میں لکھے گئے ایک مضمون میں آل جابر نے انکشاف کیا کہ سویڈن میں یمن کے متحارب دھڑوں کے درمیان اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ہونے والے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی طرف سے فعال انداز میں یمن کی عسکری، اقتصادی اور سفارتی معاونت نے امن کی امید پیدا کی۔ سعودی عرب پورے عزم کے ساتھ یمن کی آئینی حکومت کے ساتھ کھڑا ہوا۔ اگر سعودی عرب مدد نہ کرتا تو اس وقت یمن القاعدہ، داعش اور حوثیوں کے درمیان تقسیم ہوچکا ہوتا۔

سعودی سفیر نے مزید لکھا کہ یمن میں حوثیوں کی جانب سے ریاستی اداروں پر غاصبانہ تسلط کے قیام کے بعد سعودی عرب نے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی پوری کوشش کی۔ سویڈن میں طے پایا جنگ بندی معاہدہ حوصلہ افزا ہے تاہم حوثیوں کی طرف سے جنگ بندی کے وعدوں کی پاسداری نہیں کی جا رہی ہے۔ حوثی پہلے بھی امن بات چیت کرتے اور معاہدے کرتے رہے ہیں مگر ساتھ ہی ان معاہدوں کی خلاف ورزیاں بھی شروع ہو جاتی تھیں۔

انہوں نے لکھا کہ سعودی عرب انسانی بنیادوں پر یمنی عوام کی مدد کر رہا ہے۔ الریاض نے یمن میں معاشی استحکام کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ یمن کی تعمیرنومیں سب سے بڑھ کر امداد فراہم کی جب کہ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں مسلسل امدادی آپریشن کیے جا رہے ہیں۔

یمن میں سعودی عرب کے سفیر نے اپنے مضمون میں حوثیوں کی جانب سے بچوں کو جنگ کا ایندھن بنائے جانے کے جرائم کی بھی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں آئینی حکومت کی حمایت میں قائم کردہ عرب اتحاد کی کوششوں سے حوثیوں کو مذاکرات کی میز پرلایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں حقیقی امن کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 پرعمل درآمد ناگزیر ہے جس میں حوثیوں کو صنعاء سے اپنا قبضہ ختم کرنے، ہتھیار پھینکنے، پڑوسی ملکوں پر میزائل حملے بند کرنے اور حکومتی امور آئینی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔