.

غدار وں نے توڑ پھوڑ کے لیے احتجاجی مظاہروں سے فائدہ اٹھایا : سوڈانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے ملک میں حالیہ مظاہروں کے دوران میں توڑ پھوڑ کا الزام ’’بعض غداروں ،دراندازوں اور ایجنٹوں‘‘ پر عاید کردیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے لوگوں کو درپیش زندگی کی مشکلات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے توڑ پھوڑ کی ہے۔ انھوں نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ ’’ شرپسند تخریب کاری کرکے سوڈان کے دشمنوں کے لیے کام کررہے ہیں اور ان ہی کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں‘‘۔

سوڈانی صدر نے گذشتہ روز ایک بیان میں ملک میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد وسیع تر اقتصادی اصلاحات متعارف کرانے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور ملک کے بنک کاری کے شعبے پر اعتماد بحال کرنے کے لیے حقیقی اقدامات کا وعدہ کیا تھا ۔

سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں مظاہروں پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ مظاہرین نے صدر البشیر کے محل کی جانب مارچ کی دھمکی دے رکھی ہے۔وہ حالیہ دنوں میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

سوڈان اس وقت سخت اقتصادی مشکلات سے دوچار ہے،اس کو غیرملکی کرنسی کی قلت کا سامنا ہے اور افراطِ زر کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔امریکا کی جانب سے گذشتہ اکتوبر میں اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد بھی اس ملک کی معاشی صورت حال میں بہتری نہیں آئی اور جاری معاشی بحران بدتر ہو چکا ہے۔

سوڈان میں اس وقت افراط زر کی شرح 70 فی صد کے قریب ہوچکی ہے اور سوڈانی پاؤنڈ کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ دارالحکومت خرطوم سمیت بہت سے شہروں میں قومی کرنسی کی قلت پڑ چکی ہے۔

سوڈان میں اس ابتر معاشی صورت حال کے باوجود صدر بشیر کی جماعت نیشنل کانگریس ان پر زور دے رہی ہے کہ وہ 2020ء میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوبارہ امیدوار کے طور پر حصہ لیں۔تاہم اگر وہ ایک مرتبہ پھر صدارتی امیدوار بنتے ہیں تو یہ ملکی آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔

سوڈان کے کئی شہروں میں گذشتہ ایک ہفتے سے صدر بشیر کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اتوار کے روز خرطوم میں ایک فٹ بال میچ کے بعد سیکڑوں افراد نے شہر کے وسط کی جانب مارچ کیا تھا اور صدر کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے جس سے صورت حال کشیدہ ہوگئی تھی۔