.

ایران کی امریکا ، یو اے ای اور سعودی عرب سے الگ افغان طالبان سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے افغان طالبان سے الگ سے مذاکرات شروع کردیے ہیں ۔یہ بات ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے کابل میں افغان صدر کے قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب سے ملاقات میں کہی ہے۔

ایران کی خبررساں ایجنسی تسنیم نے علی شمخانی کے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’ ایران کے ساتھ رابطوں اور مذاکرات کا ایک سلسلہ افغان حکومت کے علم سے جاری ہے اور یہ عمل جاری رہے گا‘‘۔

علی شمخانی ایران کے اعلیٰ سکیورٹی اور فوجی عہدے داروں کے ساتھ بدھ کی صبح سرکاری دورے پر کابل پہنچے تھے اور ایران کی جانب سے پہلی مرتبہ افغان امن مذاکرات کے بارے میں یہ بیان جاری کیا گیا ہے۔اسی ماہ متحدہ عرب امارات میں افغان امن مذاکرات منعقد ہوئے تھے۔ان کے بارے میں سعودی عرب نے کہا ہے کہ ان مذاکرات کے آیندہ سال کے اوائل میں ’’ مفید نتائج‘‘ برآمد ہوں گے اور توقع ہے کہ ان سے ملک میں گذشتہ سترہ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔

واضح رہے کہ ایران کا عراق ، شام اور لبنان میں اثرورسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور اس حوالے سے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر گفتگو ہوتی رہتی ہے لیکن اس کا افغانستان میں اس طرح کا کردار نہیں ہے۔البتہ وہ افغانستان میں امریکا کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اپنے مفاد میں قدم جمانے کی کوشش کررہا ہے۔