ایک ہفتے کے دوران میں پُرتشدد مظاہروں میں 19 افراد کی ہلاکت : سوڈانی وزیر اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں گذشتہ ایک ہفتے میں احتجاجی مظاہروں کے دوران میں19 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور 219 شہری اور 187فوجی جنگجو زخمی ہوئے ہیں۔

سوڈانی وزیر اطلاعات اور حکومت کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ پبلک پراسیکیوشن نے مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات شروع کردی ہے اور اس امر کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ یہ فائرنگ کس نے کی تھی۔

سوڈان کے مختلف شہروں میں 19 دسمبر سے روٹی کی قیمت میں ہوشربا اضافے ، عام مہنگائی اور ابتر معاشی صورت حال کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ آٹھ روز قبل سوڈانی حکومت نے روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافہ کردیا تھا جس پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے او ر وہ اب گذشتہ تین عشروں سے برسر اقتدار صدر عمر حسن البشیر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

سوڈانی صدر نے دو روز قبل ہی حالیہ مظاہروں کے دوران میں توڑ پھوڑ کا الزام ’’بعض غداروں ،دراندازوں اور ایجنٹوں‘‘ پر عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ انھوں نے لوگوں کو درپیش زندگی کی مشکلات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے توڑ پھوڑ کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ شرپسند تخریب کاری کا ارتکاب کرکے سوڈان کے دشمنوں کے لیے کام کررہے ہیں اور ان ہی کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں‘‘۔

صدر عمر البشیر نے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد وسیع تر اقتصادی اصلاحات متعارف کرانے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور ملک کے بنک کاری کے شعبے پر اعتماد بحال کرنے کے لیے حقیقی اقدامات کا وعدہ کیا تھا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں