تیونس : صحافی کی خودسوزی کے خلاف پُرتشدد مظاہرے ، 18 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونس میں ابتر معاشی صورت حال سے تنگ ایک صحافی کی خودسوزی کے خلاف مختلف شہروں میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں اور حکام نے دو شہروں سے 18 افراد کو مظاہروں میں حصہ لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

تیونس کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان صوفین زاغ نے بتایا ہے کہ ان میں سے 13 افراد کو قصرین گورنری کے صوبائی دارالحکومت اور پانچ کو دارالحکومت تیونس سے 20 کلومیٹر دور واقع قصبے طبربہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

قصرین میں دو روز قبل ایک صحافی عبدالرزاق زرغوئی نے خود کو آگ لگا لی تھی ۔اس کے بعد تیونس کے مختلف علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔اس صحافی نے خودسوزی سے قبل اپنی ایک ویڈیو آن لائن پوسٹ کی تھی اور اس میں ملک میں ابتر معاشی صورت حال اور بے روزگاری پر اپنی سخت مایوسی کا اظہار کیا تھا اور اپنے ہم وطنوں سے حکومت کے خلاف بغاوت کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ تیونس میں 2011ء میں برپا شدہ عرب بہاریہ انقلاب کے بعد عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔

اس صحافی کے آبائی شہر قصرین میں سب سے زیادہ پُرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں اور پولیس نے پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔ایک مقامی ریڈیو کے مطابق مظاہروں پر قابو پانے اور سرکاری عمارتوں کے تحفظ کے لیے پولیس کے ساتھ فوج کو بھی تعینات کردیا گیا ہے۔

دارالحکومت تیونس کی مرکزی شاہراہ حبیب بو رقیبہ پر بھی مظاہرین نے ملک میں مہنگائی اور بے روز گاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔مظاہرین نے حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

دریں اثناء قصرین میں ٹرائبیونل کے ترجمان اشرف یوسفی نے کہا ہے کہ صحافی زرغوئی کی موت کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور اس امر کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ خطرے سے دوچار شخص کی جان کیوں نہیں بچائی گئی۔انھوں نے کہا کہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں