.

سویڈن : کیمیائی مواد کے ذریعے ایک بڑے دہشت گرد حملے کا منصوبہ ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن میں استغاثہ اور مقامی اخبارات کے اعلان کے مطابق دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے الزام میں وسطی ایشیا کے تین باشندوں سے تحقیقات جاری ہیں۔

استغاثہ نے جمعرات کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ مذکورہ تینوں افراد نے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کرنے کے واسطے کیمیائی مواد کی بہت بڑی مقدار اور دیگر سامان ذخیرہ کیا ہوا تھا۔ بیان کے مطابق اگر یہ دہشت گرد حملہ ہو جاتا تو سویڈن میں خطرناک تباہی سے دوچار ہو جاتا۔

اسی طرح ان تینوں افراد سمیت چھ افراد پر دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کا بھی الزام ہے۔ اس بات کا شبہ ہے کہ ان چھ افراد نے داعش تنظیم کی کارروائیوں کی فنڈنگ کے واسطے مالی رقوم ملک سے باہر بھیجیں۔

ایک مقامی اخبار Dagens Nyheter کے مطابق ملزمان کی عمر 30 سے 45 سال کے درمیان ہے اور ان کا تعلق ازبکستان اور کرغستان سے ہے۔ تمام افراد نے خود پر عائد الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز سات جنوری سے ہو گا۔

چھ میں سے ایک ملزم ابھی تک مفرور ہے جب کہ بقیہ پانچ رواں سال اپریل میں اسٹرومسنڈ میں پولیس کی کارروائی کے بعد سے زیر حراست ہیں۔

مذکورہ اخبار کے مطابق ان مشتبہ افراد میں سے کم از کم ایک شخص ازبکستانی شدت پسند رحمت عقیلوف کے ساتھ رابطے میں تھا۔ عقیلوف نے اپریل 2017 میں اسٹاک ہوم میں چوری شدہ ٹرک کے ذریعے کچل کر 5 افراد کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔ جون 2018 میں اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔