.

ایران: یونیورسٹی کے مشتعل طلبہ کا احتجاجی مظاہرہ ، مشیر خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں اسلامی فری یونیورسٹی کے طلبہ نے ہفتے کے روز ایک بس حادثے میں اپنے دس ساتھیوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سائنس اور ریسرچ کالج میں طلبہ کے مظاہرے پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا تھا۔

طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کے دوران میں ایرانی لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی کے خلاف نعرے بازی کی اور اس یونیورسٹی کے انتظامی امور چلانے میں ناکامی پر ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔

یونیورسٹی میں انتظامیہ کا آج ایک اجلاس منعقد ہونا تھا اور اس میں بس کو پیش آنے والے واقعے پر غور کیا جانا تھا لیکن طلبہ کے مظاہرے کے پیش نظر اس کو ملتوی کردیا گیا۔

اسلامی فری یونیورسٹی کی بس کو گذشتہ منگل کے روز تہران کے شمال مغرب میں واقع البرز پہاڑ پر حادثہ پیش آیا تھا اور وہ لڑھک کر کنکریٹ کے ایک ستون سے جا ٹکرائی تھی۔بس میں ڈرائیور کے علاوہ 30 طلبہ سوار تھے اور ان میں دس جان کی بازی ہار گئے تھے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بس کو ڈرائیور کو دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا تھا لیکن طلبہ کی ایک بڑی تعداد اور سوشل میڈیا کے صارفین نے اس موقف کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ شاہراہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی اور بس بہت پرانی تھی اور اسی وجہ سے وہ حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔