.

روس اور ترکی میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد شام میں زمینی کارروائیوں پر روابط سے اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور ترکی نے شا م میں امریکی فوج کے انخلا کے بعد مستقبل میں زمینی کارروائیوں کے بارے میں روابط سے اتفاق کیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ہفتے کے روز ماسکو میں ترک وزیر خارجہ مولود شاوش اوغلو سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ’’ شام میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد ہم نے نئی پیدا ہونے والی صورت حال پر خاص توجہ دی ہے اور اس میں آپس میں روابط سے اتفا ق کیا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ شام میں دہشت گردی کے خطرے کے خاتمے کے لیے نئی صورت حال میں روس اور ترکی نے اپنے فوجی نمایندوں کے درمیان روابط کو مربوط بنانے کے لیے ایک مفاہمت سے اتفاق کیا ہے‘‘۔

اس موقع پر ترک وزیر خارجہ نے اس مفاہمت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک شام میں فوجی کارروائیوں کے لیے ایک دوسرے سے رابطے کریں گے۔انھوں نے شامی مہاجرین کی ان کے گھروں کو واپسی کے لیے مدد دینے سے متعلق منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’’ ہم جمہوریہ شام میں جاری بحران کے جلد سے جلد سیاسی حل کی تلاش کے لیے روسی اور ایرانی ہم منصبوں سے مل کر فعال انداز میں کام کریں گے‘‘۔

ماسکو میں شام پر مذاکرات میں دونوں وزرائے خارجہ کے علاوہ روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اور ترک وزیر دفاع حلوسی عکار نے بھی شرکت کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے اچانک شام میں موجود اپنے دوہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کردیا تھا اور کہا تھا کہ امریکا نے شام میں اپنے مقاصد حاصل کرلیے ہیں اور اس نے داعش کو شکست سے دوچار کردیا ہے۔ امریکا کے دو اتحادی ممالک برطانیہ اور فرانس نے صدر ٹرمپ کے اس موقف سے اتفا ق نہیں کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ داعش کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

واضح رہے کہ اگست 2014ء میں امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد کی شام میں فضائی اور زمینی مہم کے نتیجے میں یہ جنگجو گروپ اپنے زیر قبضہ بیشتر علاقوں سے محروم ہوچکا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے ہزاروں جنگجو اب بھی شام میں موجود ہیں۔