.

سعودی فورسز نے نجران کی جانب داغا گیا حوثیوں کا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی فضائی دفاعی فورسز نے ہفتے کے روز سرحدی شہر نجران کی جانب یمن سے حوثی شیعہ باغیوں کے داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کر دیا ہے۔

عرب اتحاد نے ابھی اس واقعے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔حوثی شیعہ باغیوں نے گذشتہ 24 گھنٹے میں سعودی سرزمین کی جانب یہ دوسرا میزائل داغا ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے سویڈن میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمنی حکومت کے ساتھ دسمبر کے اوائل میں طے شدہ جنگ بندی سمجھوتے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ پہلے تو وہ یمن میں ساحلی شہر الحدیدہ اور دوسرے علاقوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کررہے تھے اور ہتھیار چلا رہے تھے ۔اب انھوں نے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کے جنوبی شہروں کی جانب میزائل داغنا شروع کردیے ہیں۔

قبل ازیں 2 نومبر کو حوثی ملیشیا نے نجران کی جانب بیلسٹک میزائل داغا تھا لیکن عرب اتحادی فورسز نے اس کو فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا تھا اور اس کا ملبہ گرنے سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا تھا۔

تب عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا تھا کہ حوثی ملیشیا کے میزائل اور راکٹ حملوں سے سعودی عرب اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوچکے ہیں اور اس نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

حوثیوں نے سیکڑوں کی تعداد میں بیلسٹک میزائل اور راکٹ سعودی عرب کی جانب فائر کیے ہیں۔ان میں 206 راکٹ جنوبی شہروں اور قصبوں میں شہری آبادیوں پر گرے ہیں جن کے نتیجے میں 211 سعودی شہری اور مکین جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔