.

ایرانی حکومت "ٹویٹر" استعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے ممانعت ہے : امریکی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں امریکی سفیر رچرڈ گرینل کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت خود ٹویٹر کا استعمال کر رہی ہے مگر عوام کے لیے اس کا استعمال روکا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی سے منسوب "ٹویٹر" اکاؤنٹ کھولے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔

اگرچہ ایرانی میڈیا نے مذکورہ ٹویٹر اکاؤنٹ کے حقیقی ہونے اور لاریجانی سے متعلق ہونے کی تردید کی ہے تاہم ایرانی حکومت کے اکثر عہدے داران Break Proxy پروگرام کے ذریعے ٹوئیٹر استعمال کر رہے ہیں۔

جرمنی میں امریکی سفیر نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ایرانی حکومت ٹوئیٹر استعمال کر رہی ہے مگر ایرانی عوام ایسا نہیں کر سکتے۔

دسمبر 2017 میں بھڑکنے والے عوامی احتجاج کے بعد سے ایران میں سوشل میڈیا پر کڑی نگرانی نافذ کر دی گئی ہے۔

ایران میں شہری دفاع کی تنظیم کے سربراہ غلام رضا جلالی پور کا کہنا تھا کہ "ایران کو اس وقت سوشل میڈیا ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کی صورت میں مرکب خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثقافتی، سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی میدانوں میں ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ کے آلات ہیں۔ سوشل میڈیا کا پیچیدہ خطرہ ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم اس سے قومی سلامتی کے لیے خطرے کے طور پر نمٹ رہے ہیں"۔

امریکا کی حالیہ پابندیوں میں ایران کی سائبر سکیورٹی سپریم کونسل کے سربراہ ابو الحسن فیروز آبادی، سائبر کرائمز کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ عبدالصمد خرم آبادی اور ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن کے صدر عبد علی عسکری سمیت دیگر ایرانی عہدے داران کو شامل کیا گیا ہے کیوں کہ ان لوگوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، انٹرنیٹ پر کڑی نگرانی لاگو کرنے اور ویب سائٹس بلاک کرنے، پر امن کارکنان کی نگرانی اور حالیہ احتجاجی مظاہروں کو کچلنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

ایران کے اندر کارکنان اور احتجاج کنندگان کی آواز کو بیرونی دنیا تک پہنچنے سے روکنے کے واسطے ایرانی حکام غیر ملکی ایپلی کیشنز کو ایران کی تیار کردہ مقامی ایپلی کیشنز سے تبدیل بھی کر رہے ہیں۔ تاہم ارکان پارلیمنٹ اور کارکنان نے اس اقدام پر سخت احتجاج کیا کیوں کہ ان کے نزدیک ایرانی شہری مقامی ایپلی کیشنز پر انٹیلی جنس اداروں اور پاسداران انقلاب کے کنٹرول کے سبب ان پر اعتماد نہیں کر رہے۔

اگرچہ ایرانی حکام نے سوشل میڈیا ایپلی کیشن "ٹیلیگرام" پر پابندی عائد کی ہوئی ہے تاہم اب بھی 79% ایرانی صارفین نے Break Proxy پروگرام کے ذریعے اس کا استعمال جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ بات ایرانی طلبہ کے سروے مرکز (ISPA) کی جانب سے ایک سروے میں بتائی گئی۔