.

بنگلہ دیش کے پرتشدد انتخابات میں 10 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش میں سخت کشیدگی اور سیاسی تناؤ کے تناظر میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ اس دوران سیاسی کارکنوں میں جھڑپوں اور پولیس فائرنگ سے 10 افراد ہلاک جبکہ کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق حکومت نے مخالفوں کو کنٹرول کرنے کے لئے انٹرنیٹ سروس بندش سمیت ایک اہم ٹی وی چینل ’جمونا‘ کی نشریات پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ حکومت کی جانب سے مخالف سیاسی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی بھی اطلاعات ہیں۔

پرتشدد کارروائیوں میں مرنے والوں کا تعلق زیادہ تر مخالف سیاسی جماعتوں سے ہے ۔ تشدد کی وجہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت پر دھاندلی کے الزام بتائے جا رہے ہیں۔ انتخابات میں حکمراں جماعت کی فتح ہونے کی صورت میں شیخ حسینہ واجد مسلسل تیسری مدت کے لئے وزیر اعظم بنیں گی۔ اس وقت بھی وہی برسر اقتدار ہیں۔

ان کی مخالف اپوزیشن رہنما خالدہ ضیاء ہیں جو ناصرف بیمار ہیں بلکہ زیر حراست بھی ہیں۔ ان پر بدعنوانی کے الزامات ہیں جبکہ پارٹی کی قیادت ان کے بیٹے کے پاس ہے جو جلا وطن ہیں۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات اپنے مقررہ وقت سے ایک سال قبل ہو رہے ہیں جس کی وجہ ملک میں جاری شدید عوامی احتجاج اور مظاہرے ہیں۔ عوامی ردعمل اور پرتشدد کارروائیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت نے بڑے پیمانے پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پارلیمان کی کل 300 نشستوں کے لئے تقریباً 10 کروڑ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ اصل مقابلہ حکمراں جماعت عوامی لیگ اور اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے درمیان ہے۔

خالدہ ضیاء 1991 سے 1996 اور 2001 سے 2006 تک دو مرتبہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہ چکی ہیں۔ ان کے مقابلے میں حسینہ واجد 1996 سے 2001، 2009 سے 2014 اور 2014 سے تاحال وزارت عظمیٰ پر فائز ہیں۔