.

قطر میں فٹبال ورلڈ کپ میں اسرائیلیوں کا بھرپور خیر مقدم کیا جائے گا: بلومبرگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر اور اسرائیل کے درمیان تعلقات تیزی سے معمول کی جانب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بالخصوص یہودی راہب مارک شنائر کے اس اعلان کے بعد کہ قطر نے اسرائیلیوں کو دوحہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ قطر اور اسرائیل کے درمیان قربت کا ایک نیا مرحلہ سامنے آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فٹبال ورلڈکپ کے ذریعے اس مرتبہ تعلقات کی یہ مضبوطی غیر معمولی سطح تک پہنچ جائے گی۔

ہیمپٹمن سائناگوگ سوسائٹی کے سربراہ رابی مارک شنائر کے مطابق سال 2022 کے فٹبال ورلڈکپ کے ایونٹ میں اسرائیلی پاسپورٹ کے حامل افراد کا دوحہ میں خیر مقدم کیا جائے گا۔

شنائر نے حال ہی میں قطری دارالحکومت دوحہ میں ورلڈکپ کی انتظامی کمیٹی کے سکریٹری جنرل حسن الذوادی سے ملاقات کی۔

بلومبرگ نیوز ایجنسی کو دیے گئے بیان میں الذوادی نے ورلڈکپ کے دوران اسرائیلیوں کی میزبانی کرنے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تاہم انہوں نے اس امر کی تردید بھی نہیں کی۔

اسرائیلی اخبار "يديعوت احرنوت" کے مطابق رابی مارک شنائر ورلڈکپ میچوں کے دوران اسرائیلی وفود کی میزبانی سے متعلق تمام تر تفصیلات میں قطر کے مشیر کے مترادف ہوں گے۔

اسرائیلیوں کی میزبانی کے حوالے سے قطر کے انتظامات کو اتنی گہرائی تک زیر بحث لایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ورلڈکپ کے دوران کوشر (وہ کھانے جو یہودی مذہب کے مطابق حلال ہیں انھیں کوشر کہا جاتا ہے) پیش کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔

اس سے قبل قطر کھیلوں کے مختلف ایونٹس میں اسرائیلی ٹیموں کی میزبانی کر چکا ہے۔ اس سلسلے میں آخری ایونٹ عالمی جمناسٹک چیمپین شپ تھی جس کے دوران اسرائیل کا قومی ترانہ بھی بجایا گیا۔