.

اقوام متحدہ کی مبصر ٹیم کے سربراہ الحدیدہ میں حوثی ملیشیا کی نئی صف بندی پر ’’نالاں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں اقوام متحدہ کےمبصر مشن کے سربراہ ریٹائرڈ میجر جنرل پیٹرک کمائرٹ نے ساحلی شہر الحدیدہ میں حوثی ملیشیا کی از سر نو صف بندی پر اپنے تحفظات کا اظہارکیا ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی کے قریبی سفارتی ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ جنرل کمائرٹ حوثی ملیشیا کے اقدامات کو ’’ یک طرفہ اور ناقابل قبول‘‘ خیال کرتے ہیں۔

ان ذرائع نے بتایا ہے کہ ’’ پیٹرک کمائرٹ ہفتے کی صبح الحدیدہ کی بندر گا ہ پر تھے اور وہ بندرگاہ سے دارالحکومت صنعاء کے لیے پہلے انسانی امدادی قافلے کی روانگی کی نگرانی کے لیے گئے تھے لیکن حوثی ملیشیا نے الحدیدہ سے صنعاء تک انسانی امدادی راہداری کے طور پر استعمال ہونے والی ایک شاہراہ کو کھولنے انکار کردیا اور اس نے بارود ی سرنگوں کو تلف کرنے پر مامور یمن کی قومی فوج کی ٹیموں پر فائرنگ کی ہے‘‘ ۔

ذرائع کے مطابق ڈچ جنرل حوثی ملیشیا کے سیکڑوں کی تعداد میں جنگجوؤں کو وہاں دیکھ پر حیران رہ گئے تھے۔ان جنگجوؤں نے یمن کے ساحلی محافظوں کی وردیاں پہن رکھی تھیں اور انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھیں بندر گاہ پر دوبارہ تعینات کیا گیا ہے۔

دریں اثناء یمنی حکومت نے حوثی ملیشیا پر بندرگاہ سے انخلا کے لیے سویڈن میں طے شدہ جنگ بندی کے سمجھوتے کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔اس نے حوثی ملیشیا پر اقوام متحدہ کی ٹیم کی انسانی راہداری کو محفوظ بنانے کے لیے کوششوں میں رکاوٹیں ڈالنے کا بھی الزام عاید کیا ہے۔