.

سپاہ ِپاسداران انقلاب ایران کا جنگی کشتیوں کو جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے اپنی تیز رفتار جنگی کشتیوں کو جدید خفیہ ( اسٹیلتھ) ٹیکنالوجی اور نئے میزائل لانچروں سے لیس کرنے کے منصوبے کا ا علان کیا ہے۔اس ٹیکنالوجی سے ایرانی جنگی کشتیاں راڈار پر نظر نہیں آسکیں گی۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ کے سربراہ علی رضا تانگ سری نے کہا ہے کہ ’’ ہم پاسداران انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں کی صلاحیت کو بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں اور انھیں جدید خفیہ ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا تاکہ ان کی بہتر انداز میں کارروائیوں میں مدد فراہم ہوسکے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ا ن اسپیڈ کشتیوں کو نئے میزائلوں سے لیس کیا جائے گا اور ان کی حد رفتار بڑھ کر 80 ناٹیکل میل فی گھنٹا ہوجائے گی۔ تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ ایران اس ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر چکا ہے یا پھر ابھی وہ مطالعے کے مرحلے میں ہے۔

ایران ماضی میں یہ کہہ چکا ہے کہ وہ جنگی طیاروں اور جہازوں کے لیے اپنی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی تیار کررہا ہے لیکن اس نے حالیہ برسوں کے دوران میں اس کے جو نمونے پیش کیے تھے، ماہرین نے ان کا مذاق اڑایا تھا۔

سپاہِ پاسداران انقلاب نے اس منصوبے کا ایسے وقت میں اعلان کیا ہے، جب ایران اور
امریکا کے درمیان خلیج کی تجارتی گذرگاہ پر بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے اور امریکا نے خطے میں ایک طویل عرصے تک عدم موجودگی کے بعد گذشتہ ہفتے ہی اپنے طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس جان اسنٹینس کو بھیجا ہے۔

ماضی میں پاسدارانِ انقلاب کی جنگی کشتیوں یا جہازوں کی خلیج میں امریکی فوج کے ساتھ وقفے وقفے سے مڈ بھیڑ ہوتی رہی ہے ۔ تاہم حالیہ مہینوں کے دوران میں ایسے واقعات میں کمی واقع ہوچکی ہے۔

پاسداران انقلاب نے گذشتہ ہفتے خلیج میں جنگی مشقیں کی تھیں اور خبردار کیا تھا کہ وہ امریکا کی کسی بھی مخالفانہ کارروائی کا جواب دینے کو تیار ہے۔واضح رہے کہ دنیا کے ایک تہائی تیل کی تجارت خلیج میں واقع اہم آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز کے ذریعے ہوتی ہے اور ایران کئی مرتبہ اس کو بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے مئی میں دستبرداری اور پھرایران پر امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں کے لیڈر ایک دوسرے ملک کے
خلاف تند وتیز بیان جاری کرتے رہتے ہیں۔

ایران یہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر امریکا کے دباؤ پر اس کی تیل کی برآمدات کو روکنے کی کوشش کی گئی تو وہ بھی خطے کے کسی اور ملک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل برآمد کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

پاسداران انقلاب کے پاس ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی مضبوط بحری بیڑا نہیں ہے۔ البتہ اس کے پاس تیز رفتار کشتیاں اور جہاز شکن گشتی میزائل لانچر ہیں اور وہ سمندر میں بارودی سرنگوں کی تنصیب کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔