.

عراق : 2018ء میں داعش سے تعلق کے جُرم میں 616 غیر ملکیوں کو مختلف سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں عدلیہ نے 2018ء کے دوران میں داعش سے تعلق کے جرم میں 600 سے زیادہ غیرملکیوں کو سزائیں سنائی ہیں ۔ان میں 400 سے زیادہ عورتیں اور کم سن لڑکے بھی شامل ہیں۔

عراق نے2017ء کے اختتام پر داعش کے خلاف تین سالہ جنگ میں ’’فتح‘‘ کا اعلان کیا تھا۔داعش نے جون 2014ء میں شمالی شہر موصل میں یلغار کے بعد عراق کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور پڑوسی ملک شام کے ایک بڑے علاقے پر بھی قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی تھی لیکن داعش ان دونوں ممالک میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد اپنے زیر قبضہ کم وبیش تمام علاقوں سے محروم ہوچکے ہیں اور اب شام میں بہت تھوڑا علاقہ ان کے زیر قبضہ رہ گیا ہے۔

عراق میں 2014ء کے بعد قریباً 20 ہزار مشتبہ افراد کو داعش سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔عراقی عدلیہ کے ترجمان عبدالستار بیرقدار نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ’’ 2018ء میں داعش سے تعلق کے الزام میں 616 مرد وخواتین کے خلاف مقدمات چلائے گئے ہیں اور انھیں عراق کے انسداِد دہشت گردی قانون کے تحت مختلف سزائیں سنائی گئی ہیں۔ان میں 466 خواتین ، 42 مرد اور 108 کم سن لڑکے شامل ہیں‘‘۔

تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ انھیں کس نوعیت کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔عراق کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت عدالتیں کسی بھی شخص کو انتہا پسند گروپ سے تعلق کے الزام میں قصور وار ثابت ہونے کی صورت میں پھانسی سمیت مختلف سزائیں سنا سکتی ہیں۔ اس میں جنگجو اور غیر جنگجو کی کوئی تمیز نہیں ہے۔

اپریل میں عدالتی ذرائع نے بتایا تھا کہ 300 سے زیادہ مشتبہ افراد کو داعش سے تعلق کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی ہے اور اتنی ہی تعداد میں مشتبہ افراد کو عمر قید کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ عراق میں عمر قید کی مدت 20 سال ہے۔

عراقی عدلیہ نے داعش سے تعلق کے جرم میں جن غیر ملکی عورتوں کو سزائیں سنائی ہیں،ان میں زیادہ تر کا تعلق ترکی اور سابق سوویت یونین میں شامل وسط ایشیائی ریاستوں سے ہے۔ان میں بہت سی عورتوں نے اپنے بچوں کے ساتھ عراق کا سفر کیا تھا جہاں ان کے خاوند داعش کی صفوں میں شامل ہو کر عراقی سکیورٹی فورسز یا دوسرے گروپوں سے لڑرہے تھے۔ان میں بعض اب عراق سے اپنے آبائی ممالک کو بے دخلی کی منتظر ہیں۔

اتوار کو 30 روسی بچوں کو بغداد سے واپسی کے پروگرام کے تحت ماسکو بھیجا گیا تھا۔ان کی مائیں عراق کی جیلوں میں قید ہیں اور داعش سے تعلق کے جرم میں سزائیں بھگت رہی ہیں۔چیچن لیڈر رمضان قادریوف نے ان بچوں کی واپسی کے لیے عراقی حکومت سے بات چیت کی تھی۔