.

امریکا کے ساتھ "نئی روش" اپنانے پر مجبور ہو سکتا ہوں : کم جونگ اُن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوہری ہتھیاروں کی تلفی کے حوالے سے اپنا موقف مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا تاہم اگر امریکا نے اُن کے ملک سے یک طرفہ اقدام کا مطالبہ جاری رکھا تو وہ ایک "نئی روشن" اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

منگل کے روز سال نو کے موقع پر اپنے خطاب میں کم جونگ نے کہا کہ اگر امریکا مقابل اقدامات کرے تو جوہری ہتھیاروں کی تلفی کا عمل زیادہ تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ شمالی کوریا کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کسی بھی وقت ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

کم جونگ نے جنوبی کوریا سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ "بیرونی طاقتوں" کے ساتھ فوجی مشقوں کا سلسلہ روک دے جن میں تزویراتی ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل ہوتا ہے۔ انہوں نے سیؤل سے مطالبہ کیا کہ وہ سازادانہ مذاکرات کو دوبارہ شروع کرے تا کہ جزیرہ نما کوریا میں ایک مستقل امن کا حامل نظام قائم کیا جا سکے۔

شمالی کوریا کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے پیونگ یانگ کے جوہری پروگرام کی بنیاد پر عائد کی جانے والی پابندیوں کو برقرار رکھا تو اُن کا ملک اپنی روش تبدیل کر سکتا ہے۔

یہ انتباہ پیونگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی طور پر قریب آنے کے بارہ ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ شمالی کوریا کے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے خطاب میں کم جونگ اُن نے کہا کہ "اگر امریکا نے اپنے اس وعدے کی پاسداری نہ کی جو اس نے پوری دنیا کے سامنے کیا تھا ،،، تو پھر ہمارے سامنے اس کے سوا کوئی آپشن نہیں ہو گا کہ اپنی سیادت اور مفادات کے تحفظ کے واسطے ایک نئے طریقے پر نظر کریں"۔