.

برطانیہ: خطرناک دہشت گرد نے خود کو رضاکارانہ طورپر پولیس کے حوالے کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں‌پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک انتہائی خطرناک پسند اور القاعدہ کے جنگجو نے خود کو رضاکارانہ طور پرپولیس کے حوالے کردیا ہے۔ برطانیہ کی تاریخ میں کسی انتہائی خطرناک دہشت گرد کا خود کو رضاکارانہ طورپر پولیس کے حوالے کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی اخبارات میں اس خبر کی تفصیلات شائع ہوئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ شاھد شاہ نامی 35 سالہ ملزم نے پولیس کو ایمرجنسی ہیلپ لائن'999' پر کال کرکے اپنا تعارف کرایا اور ساتھ ہی کہا کہ میں ایک مسجد کو دھماکے سے اڑانے کی تیاری کررہا ہوں۔ اگر پولیس مسجد کو بچانا چاہتی ہے تو مجھے گرفتار کرلے۔ ملزم نے اعترافی بیان میں‌کہا وہ مسجد میں دھماکہ کرکے وہاں پرآنے والوں کو خوف زدہ کرنا اور ہراس پھیلانا چاہتا ہے۔

ملزم نے دعویٰ کیا کہ اس نے القاعدہ کے ایک جہادی عسکری کیمپ سے جہادی تربیت حاصل کی اور طویل عرصے تک القاعدہ کے بانی اسامہ بند لادن کی جہادی تقاریر سنیں۔

پینتس سالہ ملزم شاھد شاہ نے کہا کہ وہ شمالی لندن میں‌300 کلو میٹر دور نورمنٹن کے مقام پر ایک مسجدد کو دھماکے سے اڑانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ وہاں پرلوگوں میں خوف وہراس پھیلایا جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران ملزم نے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے دوران ایک مسجد کو دھماکے سے اڑانے کی تیاری کا اعتراف کیاہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا وہ مسجد کو کیوں تباہ کرنا چاہتا ہے۔

پولیس نے ملزم کو 16 ہفتوں کے لیے زیرتفتیش رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس سے القاعدہ کے ساتھ تعلق اور دیگر اہم نوعیت کی معلومات حاصل کی جاسکیں۔ برطانوی پرسیکیوٹر جنرل کاکہنا ہے کہ مشتبہ شدت پسند نے کہاہے کہ وہ مسجد کو اس لیے دھماکےسے اڑانا چاہتا ہے کیونکہ وہاں آنے والے لوگ اس کے نظریات کے مخالف ہیں۔