.

فرانسیسی وزیر دفاع کا دورۂ اردن ، داعش کے خلاف جنگ میں شریک فوجیوں سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیر دفاع فلورینس پارلے نے اردن کا مختصر دورہ کیاہے اور وہاں داعش کے خلاف جنگ میں شریک فرانسیسی فوجیوں سے ملاقات کی ہے۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ فرانس امریکی فوجیوں کے شام سے انخلا کے باوجود داعش کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

عمان میں قیام کے دوران میں وہ اردنی وزیر اعظم عمر الرزاز سے بھی ملاقات کرنے والی تھیں۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکا کی جانب سے شام سے انخلا کے اچانک اعلان سے بہت سے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔فرانس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شام میں داعش کی شکست سے متعلق تجزیے سے مکمل طور پر متفق نہیں ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں انتہا پسند ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں۔ہم ان کے خاتمے تک مہم جاری رکھیں گے اور یہی ہماری ترجیح ہے۔

فرانسیسی وزیر دفاع نے کہا کہ’’ امریکا نے بین الاقوامی اتحاد کے قائد کی حیثیت سے ( داعش مخالف جنگ میں) بہت اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اب واشنگٹن کے بغیر یہ مہم اس طرح جاری رکھنا شاید حقیقت پسندانہ یا موثر نہ ہو ۔

فرانسیسی فوج نے داعش کے خلاف جنگ کے لیے 1200 فوجی شام میں تعینات کررکھے ہیں۔اس کے لڑاکا طیارےعراق اور شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی مہم میں شریک رہے ہیں۔فرانسیسی آرٹلری اور خصوصی فورسز سے تعلق رکھنے والے فوجی عراقی آرمی کو تربیت بھی دے رہے ہیں۔