نوجوانی میں گھریلو ملازمہ کو چُھوا تھا : فلپائن کے صدر کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے کی جانب سے ہائی اسکول کے دور میں خاتون ملازمہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے اعترافی بیان کے بعد ،،، انسانی حقوق کی تنظیمیں روڈریگو کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

ہفتے کے روز اپنی تقریر میں روڈریگو نے بتایا کہ وہ ایک پادری کے سامنے یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھر میں کام کرنے والی ملازمہ کو اُس وقت چھونے کی کوشش کی تھی جب وہ سو رہی تھی۔ روڈریگو کے مطابق "وہ کمرے میں داخل ہوئے اور ملازمہ کا کمبل ہٹا کر اسے چُھوا مگر وہ جاگ گئی اور کمرے سے باہر چلی گئی"۔ روڈریگو نے بتایا کہ وہ بعد ازاں کمرے میں واپس آئے اور ایک بار پھر ملازمہ کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

برطانوی نشریاتی ادارے نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم گیبری ایلا کے حوالے سے بتایا کہ صدر روڈریگو اس منصب کے قابل نہیں ہیں اور انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔ تنظیم نے روڈریگو کی اس حرکت کو ایک قسم کی "زیادتی" قرار دیا۔

یہ پہلا موقع نہیں جب فلپائی کے صدر نے اپنے کسی بیان یا فعل سے خواتین کے اندر غصے کی لہر بھڑکائی ہو۔ تاہم اس کے باوجود وہ ملک میں بھرپور طور پر مقبول ہیں۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں