.

فصیح عربی زبان میں گفتگو کرنے والے بھارتی کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک وڈیو کلپ میں ایک بھارتی شہری فصیح عربی زبان میں گفتگو کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ گفتگو میں ابو صالح انیس لقمان ندوی نے شکوہ کیا ہے کہ اس زبان کو بولنے والے عرب کس طرح اپنی گفتگو کے دوران زبان کی گرامر کی دھجیاں اڑاتے ہیں جو ابو صالح کے نزدیک ایک بڑا قصور ہے۔

ابو صالح کہتے ہیں کہ "میں اپنے آپ سے ہمیشہ عربی زبان میں بات کرتا ہوں تا کہ میری زبان اس کی عادی ہو جائے۔ کبھی کبھار میں گھر میں اپنے اہل خانہ سے بھی عربی بول لیتا ہوں۔ مثلا میں اپنی بہن سے کہتا ہوں کہ – أعطني كوباً من الماء (مجھے ایک گلاس پانی دو) – اس کے بعد میں جملے کا ہندی میں ترجمہ کر دیتا ہوں"۔

ابو صالح نے مزید بتایا کہ وہ کبھی کبھی سڑک پر چلتے ہوئے دیوانوں کی طرح عربی اشعار دہراتے ہیں جس پر لوگ ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔ تاہم وہ اس جانب التفات نہیں کرتے کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ "مجھے صرف یہ دھن سوار ہے کہ بنا کسی کی مدد حاصل کیے زبان میں مہارت حاصل کر لوں"۔

ابو صالح کے مطابق فصیح عربی زبان اُن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے بالخصوص زیر ، زبر اور پیش کے حوالے سے اس کی گرامر میں۔

بھارتی شہری نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ بعض مرتبہ عرب باشندے اپنی گفتگو میں زبر کی جگہ زیر اور زیر کی جگہ زبر بولتے ہیں۔ ابو صالح نے ایسے عربوں سے التجا کی کہ "يا أخي اكسر عظامي ولا تكسر المنصوب" (میرے بھائی ، تُو میری ہڈی پسلی ایک کردے مگر زبر کو زیر سے دوچار نہ کر)۔

سوشل میڈیا پر بھارتی شہری کے اس وڈیو کلپ کو بڑی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں کیے جانے والے اکثر تبصروں میں فصیح عربی زبان اور اس کی جمالیات کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ ساتھ یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ پروان چڑھتی نسل کے اندر فصیح زبان کو راسخ کرنے کے لیے سماجی اداروں اور خاندانوں کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔