.

پہلی مرتبہ ... افغان طالبان کی صفوں میں دو ایرانی ارکان کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے صوبے فاریاب میں سکیورٹی ذمے داران نے تصدیق کی ہے کہ صوبے میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران طالبان تحریک کے 2 ایرانی اور 27 دیگر جنگجو اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

افغان سکیورٹی ترجمان حینیف رضائی نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے دو ایرانی "مُلا احمد اور مُلا جند الله" ہیں۔ یہ دونوں فاریاب صوبے میں طالبان تحریک کے دو اہم ارکان تھے اور صوبے علاقے خواجہ سبز پوش میں ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔ رضائی کے مطابق "ایران ماضی میں افغانستان میں تخریب کار جماعتوں کو ہتھیار اور مالی رقوم فراہم کرتا رہا ہے مگر یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہم نے ایرانیوں کو افغانستان میں دہشت گرد جماعتوں کی صفوں میں شامل ہو کر لڑتے دیکھا"۔

گزشتہ ماہ دسمبر کے اوائل میں افغان رکن پارلیمنٹ عبدالصبور خدمت نے بتایا تھا کہ ایران طالبان تحریک کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے ،،، طالبان کو افغان حکومت کے دباؤ کا سامنا ہوتا ہے تو وہ ملک سے کوچ کر جاتے ہیں اور ایران میں اپنے لیے کوئی محفوظ مقام تلاش کرتے ہیں"۔ ایرانی اپوزیشن کی ویب سائٹ "ايران وائر" کو دیے گئے انٹرویو میں عبدالصبور نے بتایا کہ طالبان کے لیے ایران کی سپورٹ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے۔ ایرانی نظام افغانستان میں جنگ بھڑکانے کے لیے اس دہشت گرد گروپ کو مسلسل سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔

طالبان تحریک نے گزشتہ چند روز کے دوران تہران میں ایرانی ذمے داران کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبيح الله مجاہد نے منگل کے روز جاری ایک بیان میں بتایا کہ طالبان کے وفد نے پیر کے روز ایران کا دورہ کیا۔ بیان کے مطابق وفد کا یہ دورہ خطے کے ممالک کے ساتھ رابطوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد افغانستان میں غیر ملکی قبضے کے بعد کے معاملات اور امن و استحکام کی واپسی کے حوالے سے نقطہ ہائے نظر کا تبادلہ ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس مئی میں افغان پولیس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایرانی نظام پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ طالبان تحریک کو ہتھیار اور عسکری ساز و سامان فراہم کر رہا ہے۔ فراہ صوبے کے پولیس سربراہ فضل احمد شیرزادہ نے بتایا کہ ایران ان کے صوبے میں انارکی پھیلانے کی غرض سے طالبان تحریک کی فنڈنگ اور اسے اسلحے سے لیس کر رہا ہے۔ شیرزادہ کے مطابق فراہ صوبے میں افغان پولیس اور فوج کو طالبان تحریک کا چھوڑا ہوا اسلحہ ملا ہے جو ایرانی ساخت کا ہے۔