.

’’حوثی یمن مخالف جنگ میں تشدد، بچّوں ،بارودی سرنگوں اور خوراک کو استعمال کررہے ہیں‘‘

اب وقت آگیا ہے ، دوسری تنظیمیں بھی عالمی خوراک پروگرام کی طرح شفافیت کا مظاہرہ کریں: انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا یمن اور اس کے عوام کے خلاف جنگ میں تشدد ، بچّوں ، بارودی سرنگوں اور خوراک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔

انور قرقاش نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں عالمی خوراک پروگرام کی جاری کردہ ایک رپورٹ کو سراہا ہے۔اس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ حوثی امدادی خوراک کو لوٹ رہے ہیں اس کو پھر شہریوں میں نقد رقوم کے عوض فروخت کررہے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں:’’ حوثی ملیشیا کی امدادی خوراک کی تجارت سے متعلق عالمی خوراک پروگرام کی رپورٹ اہمیت کی حامل ہے اور اس میں ان کی اس طرح کی کارستانیوں کے دستاویزی ثبوت فراہم کیے گئے ہیں۔سچ یہ ہے کہ حوثیوں نے یمنی ریاست اور عوام کے خلاف اپنی جنگ میں تشدد ، بچّوں ، بارودی سرنگوں اور خوراک کو استعمال کیا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ دوسری تنظیمیں بھی اسی طرح کی شفافیت کا مظاہرہ کریں‘‘۔

اقوام متحدہ کے تحت عالمی خوراک پروگرام نے سوموار کو کہا تھا کہ قحط کا شکار یمنیوں کے لیے بھیجی گئی خوراک کو حوثیوں کے کنٹرول والے علاقوں میں لوٹ کر فروخت کیا جارہا ہے۔

ڈبلیو ایف پی کا کہنا تھا کہ حاجت مند یمنیوں کے لیے بھیجی گئی امدادی خوراک کو دارالحکومت صنعاء میں کھلی مارکیٹ میں بیچا گیا ہے۔اس کے بعد ادارے کو یہ معلوم ہوا ہے کہ ایسے بہت سے لوگوں کو راشن نہیں ملا ہے جو اس کے حق دار تھے اور حوثیوں کے تحت وزارت تعلیم سے وابستہ ایک مقامی شراکت دار تنظیم نے فراڈ کا ارتکاب کیا تھا۔