.

بشارالاسد کی قریبی عزیزہ نے لندن میں کروڑوں ڈالرمیں رہائش کیسے خریدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی حکومت نے راز داری کے ساتھ شام کے صدر بشارالاسد کی ایک قریبی عزیزہ کو کروڑو ڈالرکی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کے بدلے میں لندن میں رہائش گاہ حاصل کرنے کی اجازت دی مگر اخبارات نے اس راز کو افشاء کردیا۔

برطانوی اخبار"ٹیلی گراف" نے بتایا کہ صدر بشارالاسد کی چچی اور اس کے دو بالغ بیٹوں کو اس شرط پر لندن میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت دی کہ وہ برطانیہ میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق 63 سالہ خاتون صدر بشارالاسد کے چچا 80 سالہ رفعت الاسد کی چوتھی بیوی ہیں۔ رفعت الاسد سنہ 1980ٰء کے عشرے میں اپنے بھائی حافظ الاسط سے اختلافات کے بعد یورپ چلے گئے۔ انہوں نے کچھ عرصہ فرانس او اسپین میں قیام کیا۔ ان دونوں ملکوں میں ان کے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار تھے۔ انہوں نے برطانیہ میں بھی کاروبار شروع کیا اور لندن میں پارک لین کالونی میں 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کا ایک محل جب کہ پیرس اور جنوبی اسپین میں‌بھی ان کے فلیٹس تھے۔

گذشتہ برس برطانوی حکومت نے رفعت الاسد کی اہلیہ کو برطانوی شہریت دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے تین بیٹوں جن کی شناخت نہیں کی گئی کو بھی برطانوی شہریت نہیں دی گئی۔ انہوں نے معاملہ اپیل کورٹ میں پیش کیا مگر عدالت نے یہ کہہ کرشہریت کی اجازت دینے سے انکار کردیا کہ اس اقدام سے برطانیہ کے بعض دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس سے قبل سنہ 2006ء میں مذکورہ خاتون نے سرمایہ کاری ویزے پر لندن کا دورہ کیا۔ اس کے بعد ان کے ایک بیٹے کو لندن ہی کے ایک مہنگے اسکول میں داخل کرایا گیا۔