.

ترک صدر کی شان میں 'گستاخی'، بنک ملازم سے پوچھ تاچھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکام نے صدر رجب طیب ایردوآن کی مبینہ توہین کے الزام میں ایک برطانوی بنک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے تحقیقات شروع کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترکی میں قائم برطانوی بنک"ایچ ایس بی سی ھولڈنگ" کی علاقائی برانچ کے انچارج سلیم کیرفنجی پر "ٹوئٹر" پرصدر طیب ایردوآن کی شان میں گستاخی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

بنک عہدیدار نے سنہ 2013ء کو استنبول کے "جیزی پارک" اور دیگر ریاستوں میں ہونے والے اھتجاج کے دوران ایک فوٹیج "ری ٹویٹ" کی۔ یہ کلپ سنہ 2004ء میں ریلز کی جانے والی ایک جرمن فلم"السقوط" سے لیا گیا تھا جس میں جرمن ڈکٹیٹر اڈوولٹ ہٹلر کے اقتدار کے آخری عرصے کو پیشکیا گیا۔

ترک اخبار"جمہوریت" نے منگل کے روز اپنی رپورٹ میں‌بتایا کہ کیرفنجی ایک سینیر بنک عہدیددار ہیں جو اپوزیشن کے خلاف ایردوآن حکومت کی مہم میں انتقامی کارروائی کا ہدف بنے ہیں۔ وہ ستمبر میں‌ استنبول میں پولیس کے سامنے پیش ہو کراپنا بیان ریکارڈ کراچکے ہیں مگر اسے خفیہ رکھا گیا۔

ادھر امریکی "بلومبرگ" نشریاتی ادارے کے مطابق برطانوی بنک نے اپنے ملازم سے ہونےوالی پوچھ تاچھ کے بارے میں کسی قسم کا تبصرہ کرنےسے انکار کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانچ سال قبل جیزی پارک میں ہونے والے احتجاج کے بارے میں بات کرنے والوں ک صدر ایردوآن دوبارہ نشانہ بنا رہے ہیں اور ان مظاہروں کا حوالہ دینے والوں کو ان کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ صدر ایردوآن ان مظاہروں کو حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک ابتدائی سازش قرار دیتے ہیں جو 2016ء کے موسم گرما میں فوج کے ذریعے آگے بڑھانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔

ترکی میں کسی بنک ملازم کو حکومت پر تنقید کی پاداش میں پوچھ تاچھ کا سامنا کرنے کا پہلا واقعہ نہیں۔ حکومت مختلف بنکوں سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کے خلاف اقتصادی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں تحقیقات کرتی رہی ہے۔

"ایچ ایس بی سی ترکی" مقامی سطح پر ترکی کے پندرہ بڑے بنکوں میں شامل ہے جب کہ ترکی میں قومی سطح پر 47 بڑے بنک ہیں۔ ترکی میں برطانوی بنک سے 2250 افراد وابستہ ہیں۔ ترکی کے قانون کے تحت صدر کی توہین پر چار سال قید کی سزا ہے۔