.

جیمز میٹس نے جو کچھ کیا اس سے خوش نہیں: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق وزیر دفاع جیمز میٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے باور کرایا ہے کہ ’’وہ افغانستان کے معاملے کے حوالے سے سابق وزیر کے طریقہ کار سے مطمئن نہیں۔‘‘ میٹس نے ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کے سبب دو ہفتوں قبل اپنا استعفی پیش کر دیا تھا۔

منگل کے روز اپنی حکومت کے ارکان اور صحافیوں کے سامنے ایک طویل خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ "میں ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان کے حوالے سے امور درست رہیں۔ تاہم جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ صدر اوباما نے انہیں برطرف کیا تھا اور میں نے بھی عملی طور پر ویسا ہی کیا"۔

امریکی صدر کے مطابق وہ نتائج چاہتے ہیں جب کہ میٹس نے افغانستان میں جو کچھ کیا اس سے وہ کسی طور خوش نہیں۔

افغانستان میں 14 ہزار کے قریب امریکی فوجی موجود ہیں۔

جیمز میٹس 2013 میں امریکی مرکزی کمان کے سربراہ تھے۔ اس دوران سابق صدر باراک اوباما نے ایران کے حوالے سے جنرل میٹس کے انتہائی سخت مواقف کے سبب انہیں عہدے سے فارغ کر دیا تھا۔

ٹرمپ کی جانب سے شام میں امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے کے اگلے روز میٹس نے 20 دسمبر کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔

ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کو میٹس کے استعفے کی میڈیا کوریج پر شدید غصہ ہے کیوں کہ سابق وزیر دفاع نے سبکدوشی کے خط میں زور دیا کہ امریکا کو "اپنے حلیفوں کے ساتھ" احترام سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔

امریکی نائب وزیر دفاع پیٹرک شناھن نے قائم مقام وزیر دفاع کے طور پر منصب سنبھال لیا ہے۔ وہ مستقل وزیر دفاع کے تقرر تک اس منصب پر فرائض انجام دیں گے۔