.

دنیا کی سب سے خطرناک خاتون کہاں روپوش ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی انٹیلی جنس کو چند روز قبل دنیا کی سب سے خطرناک خاتون کے حوالے سے نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

برطانوی میڈیا نے باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کے پاس 35 سالہ دہشت گرد برطانوی خاتون Samantha Lewthwaite کے متعلق بہت سی معلومات ہیں۔ سابقہ معلومات کے مطابق وہ کبھی کینیا اور کبھی صومالیہ میں روپوشی اختیار کرتی رہی ہے۔

معلومات کے مطابق دنیا کی نمبر ایک دہشت گرد خاتون جس نے غالبا 400 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ،،، شاید یمن میں موجود ہے جہاں یقینی طور پر اس کے تعلقات ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ سمانتھا دہشت گرد تنظیم حرکت الشباب کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے جس نے کئی برس تک کینیا اور صومالیہ میں موجودگی کے دوران برطانوی خاتون کو تحفظ فراہم کیا۔

یاد رہے کہ سمانتھا لیوتھویٹ ایک برطانوی فوجی کی بیٹی ہے۔ اس نے 15 برس کی عمر میں اسلام قبول کر کے اپنا نام تبدیل کر لیا تھا۔ وہ مغربی اور افریقی ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کی نظر میں ایسی شخصیت سمجھتی جاتی رہی ہے جو اپنے شوہر جیرمن لینڈسی کی طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ جیرمن نے 7 جولائی 2005 کو لندن کی میٹرو ٹرینز کو نشانہ بنانے کے لیے ہونے والے 4 حملوں میں خود کو 3 دیگر خود کش بم باروں کے ساتھ دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ ان حملوں میں 52 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

سمانتھا کا جیرمن کے ساتھ تعارف 2002 میں انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے ذریعے ہوا تھا۔ 2005 کے حملوں کے وقت جیرمن کی سمانتھا سے ایک بچی تھی جس کی عمر 3 برس سے کم تھی جب کہ سمانتھا کو دوسری بار حاملہ ہوئے 7 ماہ گزر چکے تھے۔

بعد ازاں سمانتھا نے دہشت گردی کے حوالے سے ایک اور مشتبہ برطانوی حبیب صالح الغنی عُرف اسامہ سے شادی کر لی جو بم تیار کرنے کا ماہر تھا۔ برطانوی دہشت گرد خاتون نے اپنے تیسرے بچے کو جنم دیا اور پھر 2009 میں اپنے شوہر کے ساتھ کینیا منتقل ہو گئی۔ اس نے برطانیہ میں اپنے خاندان کے ساتھ رابطے کے علاوہ بقتیہ تمام تر رابطے ختم کر دیے۔ بعد ازاں 2011 کے بعد خاندان کے ساتھ بھی ان رابطوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔

سمانتھا پر 2014 میں نیروبی میں بعض دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔