.

شامی صدر بشار الاسد فی الوقت اقتدار ہی میں رہیں گے: برطانوی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد روس کی حمایت کی بدولت فی الوقت اقتدار ہی میں رہیں گے۔ البتہ انھوں نے برطانیہ کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ بشار الاسد شام میں قیام امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

انھوں نے جمعرات کو سکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :’’ برطانیہ کا طویل عرصے سے یہ موقف ہے کہ شام میں جب تک بشارالاسد کی قیادت میں رجیم اقتدار میں ہے،اس وقت تک اس ملک میں دیرپا امن قائم نہیں ہوسکتا لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ فی الوقت اقتدار ہی میں رہیں گے‘‘۔

ان کے اس بیان سے چند روز قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کا ا علان کیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ شام میں داعش کو شکست ہوچکی ہے اور اس ملک میں امریکا کی فوجی موجودگی کا یہی ایک جواز تھا۔

عرب ممالک نے بھی شام کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنا شروع کردیے ہیں اور متحدہ عرب امارات نے گذشتہ جمعرات کو شامی دارالحکومت دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا جبکہ بحرین کا کہنا تھا کہ دمشق میں اس کے سفارت خانے میں معمول کے مطابق کام جاری ہے۔سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے گذشتہ ماہ دمشق کا دورہ کیا تھا ۔2011ء کے اوائل میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد کسی عرب سربراہِ ریاست کا شام کا یہ پہلا دورہ تھا۔