.

ملک ہدف بنا ہوا ہے، مظاہروں کا مطلب تخریب کاری نہیں: سوڈانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے صدر عمر البشیر نے باور کرایا ہے کہ ان کے ملک کو خود پر عائد پابندیوں کے سبب 21 برس سے اقتصادی جنگ کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مظاہروں کا مطلب تخریب کاری، آگ لگانا اور بربادی نہیں ہے۔

جمعرات کے روز اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سوڈان نے ڈالروں کے بدلے اپنی خود مختاری اور عزت نفس کو بیچنے سے انکار کر دیا۔ سوڈانی صدر کے مطابق حالیہ بحران سے راتوں رات نہیں نکلا جا سکے گا مگر "ہم باہر آنے کا راستہ جانتے ہیں"۔

البشیر نے اپنے ملک کو بنا کسی جواز دہشت گردی کی فہرستوں میں شامل کیے جانے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "ملک اپنے بہت سے وسائل سے محروم ہو چکا ہے اور اب بھی بہت سی طاقتوں کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے"۔

البشیر نے زور دے کر کہا کہ سوڈان کے عوام "ایک اچھی زندگی کے مستحق ہیں"۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواں ماہ کے دوران اجرتوں کو مطلوبہ ادنی حد تک بڑھانے کے حوالے سے پروگرام کو نافذ العمل کیا جائے گا۔

سوڈانی صدر کے مطابق ملک میں مختلف طبقات کے لیے مزید گھر بنانے کے سلسلے میں منصوبے وضع کیے جا رہے ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر عمر البشیر نے ملک میں کام کرنے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہا۔