.

جنوبی سوڈان میں کمرشل طیارے کی پہلی خاتون پائلٹ سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنہ 2011ء میں شمالی سوڈان سے آزادی کے بعد جنوبی سوڈان اب بھی خانہ جنگی کا شکارہےآہستہ آہستہ حکومت مختلف شعبوں میں ترقی کررہی ہے۔ شمالی سوڈان کی نسبت جنوبی سوڈان میں خواتین نسبتا زیادہ با اختیار ہیں جس کا اندازہ ایک نوجوان لڑکی کی اعلیٰ تعلیم اور ہوابازی کے پیشے میں پائلٹ تک پہنچنے سے لگایا جا سکتا ہے۔

جنوبی سوڈان میں کمرشل ہوائی جہاز کی خاتون پائلٹ 'الویل بول الونجی' ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ پیشرفضائیہ میں کیپٹن کے عہدے پر بھرتی ہونے کے بعد جہاز اڑانے کا لائسنس حاصل کیا ہے۔

افریقا کے غریب، پسماندہ، بنیادی ڈھانچے سے محروم ، بنیای تعلیم اور صحت کی سہولیات کے فقدان کا سامنا کرنے اور جنگجوں کا شکار رہنے والے ملک میں کسی خاتون کا اس مقام تک پہنچنا ناممکن نہیں مشکل ضرور ہے۔

الویل بول الونجی نے کمرشل ہوائی جہاز کی پائلٹ سیٹ پر بیٹھ کربنائی اپنی تصاویر اور سیلفی سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ "فیس بک" پر شیئر کی ہیں۔ اسے امریکا کی ڈلٹا فضائی کمپنی کے ایک جہاز کے کیبن میں‌بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے۔

چونتیس سالہ الونجی نے کمرشل فضائی سروس میں 2011ء میں تعلیم مکمل کی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ایتھوپیا کی فضائی سروس سے منسلک ہوئیں۔اس کے بعد "فلائی دبئی" میں پائلٹ بن گئی تھیں۔

افریقی ویب سائیٹ"opinion "کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیپٹن الونجی نے کہا کہ فضاء میں اڑنا اس کا خواب تھا اور اس کا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا ہے۔ اس نے کہا کہ میرے پائلٹ بننے کے خواب کو پورا کرنے میں میرےپورے خاندان بالخصوص میرے والد کا اہم کردار ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب وہ "فلائی دبئی" کا ایک طیارہ امارات سے لے کر جوبا کی طرف روانہ ہوئی تھیں تو اس وقت وہ جہاز پرموجود عملے میں صرف اکیلی تھیں اور عملے کا کوئی دوسر فرد اس کے ساتھ کیبن میں‌موجود نہیں تھا۔