ٹرمپ نے شام سے انخلا کے سلسلے میں رابطہ کاری بولٹن کو سونپ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے اپنی ٹویٹس میں کہا ہے کہ وہ شام کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی جیمز جیفری اور چیف آف اسٹاف جوزف ڈینفور کے ہمراہ ترکی کا دورہ کریں گے۔

دورے کا مقصد شام کی سرزمین سے امریکی فوج کے انخلا کے لیے اور داعش تنظیم کو دوبارہ نمودار ہونے سے روکنے کے واسطے رابطہ کاری ہے۔ بولٹن کے مطابق رابطہ کاری کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ خطے میں ایران کی دشمنانہ سرگرمیوں کا انسداد کیا جائے۔

بولٹن کا یہ اعلان ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد سامنے آیا۔ رابطے میں دونوں سربراہان نے شام کے معاملے پر بات چیت کی۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے شام میں امریکی فوجیوں کے عملی انخلا کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ پومپیو کے مطابق واشنگٹن اپنی فورسز کے انخلا کے بعد بھی ترکوں کے ہاتھوں کُردوں کی عدم ہلاکت کو یقینی بنائے گا۔

امریکی انخلا کے آغاز کے اعلان نے کردوں کے اندیشوں کو بھڑکا دیا تاہم پومپیو نے ان کو کم کرنے میں تیزی دکھائی اور ترکی سے مطالبہ کر ڈالا کہ وہ شمالی شام میں کردوں کو ہلاک نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے۔

انقرہ شام اور ترکی کے درمیان سرحد پر روزانہ کی بنیاد پر عسکری کمک ارسال کر رہا ہے جو کہ منبج کے معرکے کی تیاری کے سلسلے میں ہے۔

تاہم شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق شام سے کوچ کرنے والے امریکی یونٹ الحسکہ صوبے میں ایک فوجی اڈے پر تعینات تھے جب کہ منبج میں امریکی فوج حسب معمول اپنا کردار انجام دے رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں