.

ٹرمپ نے شام سے انخلا کے سلسلے میں رابطہ کاری بولٹن کو سونپ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے اپنی ٹویٹس میں کہا ہے کہ وہ شام کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی جیمز جیفری اور چیف آف اسٹاف جوزف ڈینفور کے ہمراہ ترکی کا دورہ کریں گے۔

دورے کا مقصد شام کی سرزمین سے امریکی فوج کے انخلا کے لیے اور داعش تنظیم کو دوبارہ نمودار ہونے سے روکنے کے واسطے رابطہ کاری ہے۔ بولٹن کے مطابق رابطہ کاری کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ خطے میں ایران کی دشمنانہ سرگرمیوں کا انسداد کیا جائے۔

بولٹن کا یہ اعلان ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد سامنے آیا۔ رابطے میں دونوں سربراہان نے شام کے معاملے پر بات چیت کی۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے شام میں امریکی فوجیوں کے عملی انخلا کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ پومپیو کے مطابق واشنگٹن اپنی فورسز کے انخلا کے بعد بھی ترکوں کے ہاتھوں کُردوں کی عدم ہلاکت کو یقینی بنائے گا۔

امریکی انخلا کے آغاز کے اعلان نے کردوں کے اندیشوں کو بھڑکا دیا تاہم پومپیو نے ان کو کم کرنے میں تیزی دکھائی اور ترکی سے مطالبہ کر ڈالا کہ وہ شمالی شام میں کردوں کو ہلاک نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے۔

انقرہ شام اور ترکی کے درمیان سرحد پر روزانہ کی بنیاد پر عسکری کمک ارسال کر رہا ہے جو کہ منبج کے معرکے کی تیاری کے سلسلے میں ہے۔

تاہم شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق شام سے کوچ کرنے والے امریکی یونٹ الحسکہ صوبے میں ایک فوجی اڈے پر تعینات تھے جب کہ منبج میں امریکی فوج حسب معمول اپنا کردار انجام دے رہی ہے۔