.

کویت کا قطر کے ساتھ فیفا فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی میں شراکت سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی فٹ بال ایسوسی ایشن کے سربراہ شیخ احمد الیوسف نے کہا ہے کہ ان کا ملک قطر کے ساتھ 2022ء میں ہونے والے فیفا عالمی کپ فٹ بال ٹورنا منٹ کے بعض میچوں کی میزبانی کی شرائط کو پورا نہیں کرسکتا ہے۔اس لیے وہ ان میچوں کا میزبان بھی نہیں بننا چاہتاہے۔

انھوں نے کویتی روزنامے الرائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کویت میں فیفا کی طے شدہ شرائط کو پورا کرنا مشکل ہے۔ان میں ایک بڑی شرط میچ دیکھنے کے لیے آنے والے اسرائیل سمیت تمام ممالک کے شہریوں کو ویزے پر ملک میں داخلے کی اجازت دینا ہے۔

انھوں نے کہا کہ :’’ اگر ہم بعض ٹیموں کا کویت میں میچ کھیلنے کے لیے انتخاب کر بھی لیتے ہیں تو پھر ہم دوسرے ممالک کے شائقین کو میچ دیکھنے کے لیے آنے سے نہیں روک سکتے۔شراب کے مختلف برانڈ بھی فیفا عالمی کپ کو اسپانسر کررہے ہیں ۔وہ میچوں کے دوران میں اپنی مصنوعات کو فروخت اور فروغ دینا چاہیں گے لیکن شراب کی کویت میں خریدوفروخت ممنوع ہے اور شراب نوشی ایک قابلِ سزا جرم ہے۔اس لیے ہم اس مسئلے کو کیسے حل کریں گے؟‘‘

احمد یوسف کا کہنا تھا کہ عالمی کپ کی میزبانی یا میزبانی میں شراکت ایک ایسی چیز ہے جس کے کویت سمیت تمام ممالک خواہاں ہیں لیکن اس میں کچھ رکاوٹیں حائل ہیں اور کوئی بھی اسپورٹس فیڈریشن انھیں کنٹرول نہیں کرسکتی ہے۔

فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو نے بدھ کو کھیلوں کے بارے میں ایک کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فٹ بال کی عالمی فیڈریشن کو اگر ممکن ہو تو 2022ء میں قطر میں ہونے والے عالمی کپ میں شرکت کرنے والی ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کر دینی چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ فیفا اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیاقطر کے بعض ہمسایہ خلیجی ممالک عالمی کپ کے بعض میچوں کی میزبانی کرسکتے ہیں۔ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ اگر ٹیموں کی تعداد بڑھائی جاتی ہے تو پھر ہمسایہ ممالک سے بعض میچوں کی میزبانی کے لیے رجوع کیا جائے۔