.

امریکا میں روسی شہری کی جاسوسی کے الزام میں گرفتاری ،واشنگٹن سے وضاحت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے امریکا سے اپنے ایک شہری کی گرفتاری پر وضاحت کر لی ہے جبکہ اس نے خود بدستور ایک امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں زیر حراست رکھا ہوا ہے۔

روس کی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف بی آئی) کے ایجنٹوں نے دمتری ماکرنکو کو 29 دسمبر کو مغربی بحرالکاہل میں واقع امریکی جزیرے سیپان سے گرفتار کیا تھا۔اس کے بعد اس کو فلوریڈا منتقل کردیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ نے مسٹردمتری پر امریکی حکام کی جانب سے عاید کردہ الزامات کی تفصیل سے لاعلمی ظاہر کی ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے تو اس کی گرفتاری کا بھی نہیں بتایا تھا اور اس کےخاندان سے وزارت کو گرفتاری کا علم ہوا تھا۔

دریں اثناء روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ ماسکو میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار امریکی شہری پال ویلان کا کیس بہت ہی سنجیدہ اور سنگین نوعیت کا ہے۔ روس کی داخلی سکیورٹی کی ذمے دار ایجنسی ایف ایس بی نے سابق امریکی میرین اور امریکا کی ایک آٹو پارٹس کمپنی کے سکیورٹی افسر ویلان کو 28 دسمبر کو دارالحکومت ماسکو سے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

سرگئی ریابکوف نے روسی خبررساں ایجنسی ریا نووستی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مسٹر ویلان کے گرد صورت حال بہت ہی سنگین ہے۔وہ روس میں روسی قانون کے منافی سراغرسانی کی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے آیا تھا ‘‘۔انھوں نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ابھی تک ویلان پر باضابطہ طور پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عاید نہیں کی گئی ہے۔

لیکن اس امریکی شہری کے وکیل ولادی میر زیربنکوف نے جمعرات کو ریا نووستی کو بتایا تھا کہ ان کے موکل پر جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عاید کردی گئی ہے۔اس کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ ماسکو میں اپنے ایک دوست کی شادی میں شرکت کے لیے گیا تھا جبکہ امریکا کے سکیورٹی حکام نے بھی اس کے جاسوس ہونے پر شبہ ظاہر کیا ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس کو گذشتہ سال امریکا میں گرفتار کی گئی ماریہ بوٹینا نامی ایک روسی عورت کی گرفتاری کے ردعمل میں پکڑا گیا ہے۔ بوٹینا پر روسی حکومت کی ایک غیر رجسٹر ایجنٹ ہونے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی اور اس نے خود بھی اس الزام کا اقرار کیا تھا۔امریکا میں عام طور پر غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ایجنٹوں پر اس طرح کا قانونی الزام عاید کیا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں نے یہ قیاس آرائی کی ہے کہ ماسکو بوٹینا یا امریکا میں گرفتار ایک اور روسی شہری کے بدلے میں ویلان کو رہا کرسکتا ہے۔واضح رہے کہ ویلان امریکا کے پاسپورٹ پر روس آیا تھا لیکن اس کے پاس برطانیہ ، آئیرلینڈ اور کینیڈا کی بھی شہریت ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اگلے روز اس تک قونصلر رسائی دینے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ روسی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اب اس کی اتنے ملکوں کی شہریت دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گاکہ اس تک ان میں سے کس ملک کو رسائی دی جائے۔