.

قتل کے جرم میں ابو حمزہ المصری کا بیٹا برطانیہ میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی پولیس نے سخت گیر مذہبی رہ نما ابو حمزہ المصری کے بیٹے کو قتل کے جرم میں حراست میں لینے کے بعد اس سے تفتیش شروع کر دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی میڈیا میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ 26 سالہ عمران مصطفیٰ کامل پر سال نو کے موقع پر لندن کی مایفیر الراقی کالونی میں ایک سیکیورٹی گارڈ کو چاقو کے حملے میں ہلاک کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

اخبار "ڈیلی میل" کے مطابق عمران مصطفیٰ کامل نے وسطی لندن میں رئیل اسٹیٹ کے ایک سیکیورٹی گارڈ پر اس وقت حملہ کیا جب اس کے ساتھ کسی بات پر تنازع ہوا۔ ابو حمزہ المصری کے بیٹے نے "ٹیوڈور سیمیونوف" کے سینے میں چاقو گھونپ دیا جس جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔ یہ تقریب پارک لین کے علاقے میں جاری تھی جس میں ابو حمزہ کا بیٹا بھی جانا چاہتا تھا مگر سیکیورٹی گارڈ نے اسے روک دیا۔

مصطفیٰ کامل کو جمعرات کے روز ویسٹمنسٹر کے مقام پر ایک مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس پر آتشیں اسلحہ رکھنے، خوف و ہراس پھیلانے، شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں‌ ڈالنے کے الزامات عاید کیے گئے تاہم قتل کا جرم تا حال مشتبہ ہے۔

خیال رہے کہ عمران مصطفیٰ کامل بنیاد پرست مبلغ ابو حمزہ المصری کا بیٹا ہے۔ ابو حمزہ المصری طویل عرصے تک برطانیہ میں مقیم رہا۔ 2012ء کو اسے 60 سال کی عمر میں امریکا کے حوالے کیا گیا۔ المصری شمالی لندن کی ونسبری پارک میں مسجد کی امامت کرتا رہا ہے۔

اکتوبر2015ء کو اس پر دہشت گردی، اغوا اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ چلانے کے بعد عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ وہ اس وقت سخت سیکیورٹی میں امریکا میں قید تنہائی میں ہے۔

ابو حمزہ کے بیٹے کے ہاتھوں مبینہ طورپر قتل ہونے والے شخص کا تعلق رومانیہ سے ہے اور وہ دو ماہ قبل روزگار کی تلاش میں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ برطانیہ آیا۔ دونوں نے رواں سال کے اوائل میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا تھا۔