.

ایران :امریکی پابندیوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ بل کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی طاقتور مصالحتی کونسل نے ہفتے کے روز بعض ترامیم کے ساتھ اینٹی منی لانڈرنگ بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے ایران کو امریکا کی عاید کردہ اقتصادی پابندیوں کا دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی اور وہ عالمی سطح پر اپنی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر بھی قابو پاسکے گا۔

ایران منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی رقوم کی ترسیل روکنے کے لیے کام کرنے والی بین الحکومتی تنظیم فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ای) کے مقرر کردہ معیارات کے نفاذ کی کوشش کررہا ہے۔غیرملکی کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنے ہاں سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتا ہے تو اس کو اس تنظیم کے مقرر کردہ معیارات کی پاسداری کرنا ہوگی تا کہ وہ اس کی بلیک لسٹ سے اپنا نام بھی حذف کراسکے۔

اس وقت ایران کا نام بھی ایف اے ٹی ایف کی اس فہرست میں شامل ہے جو دہشت گردی کی معاونت کے لیے رقوم مہیا کررہے ہیں۔ایران کے سخت گیر حلقے ماضی میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے قانون کی منظوری کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور ان کا یہ موقف رہا ہے کہ اس سے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سمیت ایران کی آلہ کار مسلح تنظیموں کو مالی مدد مہیا نہیں کی جاسکے گی۔امریکا اور بعض یورپی ممالک نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

ایرانی پارلیمان نے گذشتہ سال اینٹی منی لانڈرنگ بل کی منظوری دے تھی جبکہ شورائے نگہبان نے اس کو مسترد کردیا تھا اور اس نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ اسلام اور آئین کے منافی ہے لیکن اب پارلیمان اور شورائے نگہبان کے درمیان کسی تنازع کی صورت میں ثالثی کے اختیار کی حامل مصالحتی کونسل نے بعض ترامیم کے ساتھ اس بل کی منظوری دے دی ہے۔

اس اقدام سے ایک ہفتہ قبل ہی ایرانی عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ صادق آمولی لاریجانی کو مصالحتی کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔وہ پارلیمان کے اسپیکر علی لاریجانی کے بھائی ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی اب ملک کو معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے اس بل کی منظوری کی حمایت کردی ہے حالانکہ وہ پہلے اس کی شدید مخالفت کرتے رہے ہیں۔

ان کی قائم کردہ تزویراتی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے ڈائریکٹر جنرل عبدالرضا فراجی نے جمعہ کو ایف اے ٹی ایف سے متعلق بل کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ بہتر یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف اور سی ایف ٹی ( کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررسٹ رجیمز) کو جلد سے جلد حتمی شکل دے دی جائے تاکہ یورپیوں کے پاس ایران سے تجارت کے ( ایس پی وی ) میکانزم پر عمل درآمد نہ کرنے کا کوئی جواز باقی نہ رہے‘‘۔