.

ایران: پارلیمان کے ارکان احتجاجی مزدور لیڈر پر تشدد کے الزامات کی تحقیقات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمان نے ایک مزدور یونین کے لیڈر پر جیل میں تشدد کے الزامات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق ایک شوگر فیکٹری میں ہڑتال کے دوران میں اسماعیل بخشی نامی اس مزدور لیڈر کو گرفتار کرکے جیل میں بند کیا گیا تھا اور اس نے وہاں خود پر جیل حکام کے تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

پارلیمان کے ایک رکن علی رضا رحیمی نے کہا ہے کہ اسپیکر علی لاریجانی نے اس کی تحقیقات کے لیے درخواست منظور کر لی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا ہے کہ سراغرسانی کے وزیر محمود علوی اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے پارلیما نی کمیشن کے روبرو پیش ہوں گے۔

اصلاح پسندوں کے اخبار اعتماد میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق اسماعیل بخشی نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر ایک تحریر پوسٹ کی ہے اور اس میں دعویٰ کیا ہے کہ انھیں جنوب مغربی صوبے خوزستان میں گذشتہ سال کے آخر میں 25 روز تک ایک جیل میں بند رکھا گیا تھا اور وہاں تشدد اور ناروا سلوک کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسماعیل بخشی نے اپنے ساتھیوں سے مل کر شوش میں واقع شوگر فیکٹری ہفت تاپہ میں ملازمین کی اجرتوں کی عدم ادائی اور اس کے نئے مالکان کی مبیّنہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کئی روز تک احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا تھا۔

ایرانی پارلیمان کے ایک دبنگ رکن علی مطہری کا آج اعتماد میں ’’ شرم کا منبع‘‘ کے عنوان سے ایک کالم شائع ہوا ہے۔اس میں انھوں نے سراغرسانی کی وزارت سے مزدور لیڈروں پر تشدد کے الزامات پر جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ خوزستان کے گورنر غلام رضا شریعتی نے اسماعیل بخشی کے دعووں کی تردید کی ہے۔

مگر بخشی نے انٹیلی جنس کے وزیر محمود علوی کو ٹی وی پر ایک براہ راست مکالمے کا چیلنج کردیا ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ وہ ( جیل حکام) مجھے غلیظ گالیاں دیتے تھے اور تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔انھوں نے مجھے نفسیاتی عوارض کی دوائیں دیں جن سے میں نفسیاتی مرض بن گیا ہوں اور مجھے نفسیاتی عارضے کا دورہ پڑ چکا ہے‘‘۔انھوں نے یہ بھی الزام عاید کیا ہے کہ دورانِ حراست ان کی فون پر اپنی بیوی سے ہونے والی تمام گفتگو کو ریکارڈ کر لیا جاتا تھا۔

واضح رہے کہ شوش میں واقع شوگر فیکٹری ہفت تاپہ کے قریباً چار ہزار ورکروں نے کئی روز تک اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کی تھی اور انھوں نے اپنی اجرتیں ملنے کے بعد دسمبر کے آخر میں یہ ہڑتال ختم کردی تھی۔