.

کرپٹ مجرموں کو سرعام پھانسی دی جائے: ایرانی پارلیمنٹرین کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے انسداد معاشی بدعنوانی کے سربراہ امیر خجستہ نے بدعنوانی کے مرتکب افراد کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی نیوز پورٹلز نے خجستہ کے حوالے سے بتایا کہ ’’ایران میں پھیلی معاشی بدعنوانی کی ذمہ داری 31 افراد پر عائد ہوتی ہے۔ ان افراد کی نشاندہی مکمل ہو چکی ہے۔ انہیں چوکوں پر سرعام پھانسی دی جائے۔‘‘

امیر خجستہ نے بتایا کہ ‘‘بدعنوانی کے ذمہ دار ان افراد میں چار کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ باقی ماندہ افراد کو بھی ایسی ہی سزا دی جانی چاہیے۔ تاہم مسٹر خجستہ نے سزائے موت پانے والے اور بدعنوانی میں ماخوذ دیگر افراد کے نام بتانے سے گریز کیا۔

حالیہ چند مہینوں کے دوران ایران نے معاشی بدعنوانی کے مرتکب تین افراد کو سزائے موت دی ہے۔ ایرانی عدلیہ کے مقرب نیوز پورٹل ’میزان‘ کے مطابق پھانسی کی سزا پانے والوں میں ایک وحید مظلومین نامی شخص بھی شامل ہے۔ انہیں ذرائع ابلاغ میں ’’اشرفیوں کا بادشاہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس پر ملک میں کرنسی مارکیٹ کو کنڑول کرنے کا الزام تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’ایسنا‘‘ کے مطابق مظلومین کو مبینہ طور پر دو ٹن سونے کی اشرفیوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ میزان کے مطابق پھانسی پانے والا دوسرا فرد سونے کے سکوں کی فروخت میں ملوث تھا۔

دونوں مجرموں کو ’’زمین پر بدعنوانی فروغ دینے‘‘ کی پاداش میں سزائے موت دی گئی۔ ایران کے اسلامی ضابطہ قانون کے مطابق بدعنوانی کا فروغ گناہ کبیرہ گردانا جاتا ہے۔

جیورٹس کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ضابطہ فوجداری میں معاشی بدعنوانی کے مرتکب افراد کے لئے سزائے موت مقرر نہیں، تاہم ایرانی حکام اس کڑی سزا کو ایران میں روز بروز گرتی ہوئی کرنسی مارکیٹ کو قابو پانے کے لئے بطور حربہ استعمال کر رہی ہے۔

تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ایسی کڑی سزائیں دے کر ایرانی حکام مزدوروں اور دیگر شعبہ ہائےزندگی کی ہڑتالوں کو دبانا چاہتے ہیں۔